انڈیا میں پل گرنے سے 132 افراد ہلاک، متعدد لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

انڈیا کی ریاست گجرات کے علاقے موربی میں دریا پر بنا ایک پل گرنے سے اب تک کم از کم 132 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تقریباً ایک صدی پرانے اس پل کو حال ہی میں مرمت کے بعد عوام کے لیے کھولا گیا تھا۔

گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سنگھ سانگھوی نے کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 132 ہو گئی ہے۔

راجکوٹ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ موہن بھائی کلیان جی کنڈاریا نے بی بی سی کے نامہ نگار دلنواز پاشا کو بتایا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’زخمیوں کی تعداد اب بھی کم ہے لیکن پانی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔‘

بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر بچے ہو سکتے ہیں۔

کنڈاریا کا کہنا ہے کہ 15 منٹ میں 50 سے زیادہ ایمبولینسیں موقع پر پہنچ گئیں۔

موربی کے ضلع کلکٹر کا کہنا ہے کہ رات تک 170 لوگوں کو بچایا جا چکا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ پل پر زیادہ لوگ موجود تھے جس کی وجہ سے پل ٹوٹ گیا، اب پل پر جانے کے لیے کتنے ٹکٹ کٹے ہیں اس کی معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق جس وقت پل گرا اس وقت اس پر 400 کے قریب افراد موجود تھے۔

راجکوٹ ضلع مجسٹریٹ دفتر کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے بتایا گیا کہ موربی پل کے جائے حادثہ کے لیے راجکوٹ ضلع سے 22 ایمبولینس، 7 فائر بریگیڈ اور چھ کشتیاں بھیجی گئی ہیں۔

یہ پل برسوں سے بند تھا۔ اسے حال ہی میں تزئین و آرائش کے بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔

یہ نیا پل گجراتی نئے سال پر دیوالی کے بعد کھولا گیا تھا اور دیوالی کی تعطیلات اور اتوار کی وجہ سے پل پر لوگوں کی کافی بھیڑ تھی۔

تاہم یہ صدیوں پرانا پل گرنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ پل گرنے کی وجوہات جاننے کے لیے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

انتظامیہ فی الحال امدادی کاموں میں مصروف ہے۔ این ڈی آر ایف کے ڈائریکٹر جنرل اتل کروال نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ این ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں موقع پر روانہ کی گئی ہیں۔ دو ٹیمیں گاندھی نگر اور ایک بڑودہ سے بھیجی گئی ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے ٹویٹ کیا، ’میں موربی میں پل کے گرنے سے غمزدہ ہوں۔ حکام کی طرف سے راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ میں نے زخمیوں کے فوری علاج کے انتظامات کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ میں مسلسل فکر مند ہوں۔ یہ ضلع میں ہے۔ میں انتظامیہ سے رابطے میں ہوں۔‘

گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے 4 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

موربی میں دریائے ماچھو پر بنایا گیا یہ جھولتا پل جدید یورپی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا ہے جس کا مقصد موربی کو ایک منفرد شناخت دینا ہے۔

موربی شہر کی سرکاری ویب سائٹ پر دی گئی معلومات میں اس پل کو انجینئرنگ کا معجزہ بتایا گیا ہے۔

یہ پل 1.25 میٹر چوڑا اور 233 میٹر لمبا تھا اور دریائے ماچھو پر واقع دربار گڑھ پیلس اور لکھدھیر جی انجینئرنگ کالج کو جوڑتا تھا۔

یہ حادثہ شام چھ بجے کے قریب پیش آیا۔

حادثے کے فوراً بعد ایمبولینس اور انتظامی اہلکار جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔ پانی میں ڈوبنے والے افراد کو بچانے میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔

حادثے کے فوری بعد آس پاس کے لوگ بھی مدد کے لیے پہنچ گئے۔ جہاں پل ٹوٹا تھا وہاں سے تھوڑے فاصلے پر رمیش بھائی جلیریا رہتے ہیں۔

اس حادثے کے ایک عینی شاہد سبھاش بھائی کا کہنا ہے کہ ’کام ختم کرنے کے بعد میں اور میرا دوست پل کے پاس بیٹھے تھے کہ پل ٹوٹنے کی تیز آواز آئی اور ہم اس طرف بھاگے اور لوگوں کو بچانا شروع کیا۔‘

’کچھ لوگ تیر کر باہر نکل رہے تھے، کچھ لوگ ڈوب رہے تھے۔ ہم نے سب سے پہلے بچوں کو نکالنا شروع کیا، اس کے بعد ہم نے پائپ لیا اور پائپ کی مدد سے بڑے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔ ہم نے آٹھ نو لوگوں کو پانی سے باہر نکالا جن میں دو لاشیں بھی تھیں۔‘

صدر دروپدی مرمو نے ٹویٹ کرکے اس واقعے پرغم کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کیا ہے کہ انھوں نے اس معاملے پر گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل اور دیگر حکام سے بات کی ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’امدادی کاموں کے لیے ٹیمیں بھیجنے کا کہا گیا ہے۔ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کو متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔‘

وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے مرنے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ نے ٹویٹ کیا کہ ’موربی میں ہونے والے حادثے سے انتہائی غمزدہ ہوں۔ میں نے اس سلسلے میں گجرات کے وزیر مملکت برائے داخلہ ہرش سنگھوی اور دیگر حکام سے بات کی ہے۔ مقامی انتظامیہ پوری تیاری کے ساتھ امدادی کاموں میں مصروف ہے، این ڈی آر ایف بھی پہنچ رہی ہے۔ انتظامیہ کو زخمیوں کو فوری علاج فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔‘

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment