بخدا یہ مالی بھی نا ـ بعض اوقات ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جنہیں سن کر سمجھ نہیں آتا اس پر ہنسنا ہے یا رونا ـ تم لاپتہ تھے، منگل کی رات وہ مجھ سے پہلے اوپسالا پہنچ کر تمہاری بلڈنگ کے سامنے کھڑا تھا ـ کافی دیر تک ـ میڈم کہہ چکی ہیں انہیں رات آٹھ بجے کے بعد وہاں کھڑا نہیں ہونا چاہیے ـ تو جناب اس نے بس پکڑی اور غلطی سے کیمپس کے قریب اتر گیا ـ میں اس کی طرف بڑھی ـ اس نے ہاتھ ہلایا، میری طرف مت آنا مجھے کورونا ہے ـ میں سنی ان سنی کرکے اس کے قریب پہنچ گئی ـ "میرا کرن آئے گا” اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ـ میری ہنسی چھوٹ گئی ـ ہم ایک لمحے کے لیے بھول گئے کہ تم لاپتہ ہو ـ میں پانچ گھنٹے کا سفر کرکے آئی تھی جبکہ مالی چار گھنٹے سے تمہاری بلڈنگ کے سامنے کھڑا تھا ـ میں نے اس دوران ایک کہانی گھڑ لی لیکن فی الحال وہ رہنے دو ـ مالی تو اسٹاک ہوم کی طرف نکل گیا لیکن میں سمجھ نہیں پارہی تھی مجھے کہاں جانا چاہیے ـ دراصل ساجد ـ درحقیقت اس رات میں کہیں جانے کا فیصلہ ہی نہ کرپائی ـ پیروں نے عیسی کے ہاسٹل جانے سے انکار کردیا تھا، اس وقت میں ہر قسم کی گوشہِ عافیت سے محروم ہوچکی تھی ـ پھر ان کم بختوں کی حرکت دیکھو مجھے وہ کمرہ الاٹ کردیا جو پچھلے ہفتے تمہارے زیرِ استعمال تھا ـ پہلی دفعہ مجھے اوپسالا سے خوف محسوس ہوا ـ مجھے اوپسالا سٹی ہاسٹل میں پہلے کبھی اس شدت سے تنہائی کا احساس نہیں ہوا ـ پہلی دفعہ اوپسالا کے لیے میرے دل میں ناپسندیدگی کے جذبات ابھرے ـ
ابھی، ذرا سوچو میں تمہاری گمشدگی پر یہ سب کچھ لکھ رہی ہوتی اور اچانک سے تاج کا پیغام آجاتا کہ ساجد بازیاب ہوچکا ہے ـ بخدا میں یہی سوچتی آنا تو تم کو ویسے بھی تھا ، تھوڑا صبر کرلیتے تو تمہارا کیا جاتا، تم مجھے کبھی بھی کچھ لکھنے مت دو ـ میں پریقین تھی تم لازماً واپس لوٹو گے لیکن اس دل کا کیا کروں جو تمہاری یاد میں تڑپتا رہتا تھا ، بعض اوقات تو اس تڑپ کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی تھی ـ مجھے ذرا سا بھی شبہ ہوتا کہ تم لاپتہ نہیں ہو تو شاید میں اتنا نہ تڑپتی ـ واللہ ایسی تڑپ ـ عجب کیفیت تھی ـ مشترکہ یادوں کا سلسلہ پھر بھی سکون آور تھا لیکن اس سلسلے کے اختتام پر جب مجھے یاد آتا تم لاپتہ ہوچکے ہو تو میرے حواس مختل ہوجاتے تھے ـ
کل ریڈیو والوں سے تاج نے ایسی گاڑھی انگریزی کی کہ میں نے فوراً دل ہی دل میں تمہیں میسج کردیا، اس صورت حال نے بظاہر مجھے خوب ہنسایا لیکن کم بخت کی باتوں نے درحقیقت مجھے لہو رلایا ـ واللہ وہ جذباتی باتوں سے انسان کو عذاب میں ڈال دیتا ہے ـ میں قطعاً نہیں جانتی تم نے یہاں اپنے وجود کا احساس دلایا ہے یا نہیں لیکن مجھے قدموں کے نشانوں ، جگہوں، لفٹوں، صوفوں، ٹی وی، گانوں، فلموں، کھانوں، دن ، مہینہ، یکہ و تنہا ستارے الغرض ہر چیز سمیت اپنے درون سے ابھرتی چیخوں نے تقریباً تقریباً قتل کر ڈالا تھا ـ
بچو! میں تم لوگوں پر واضح کررہی ہوں آئندہ جو بھی یہاں سے جائے اپنی چیزیں ساتھ لے جائے ـ میں ناتواں انسان ہوں ، کمزور دل ہوں ـ مجھ میں خاموش چیخوں کو برداشت کرنے کی سکت رتی بھر بھی نہیں ہے ـ تاج نے بتایا مرید نے ایک جذباتی پیس تخلیق کی ہے ـ میں نے شکایت کی کہ پھر مجھے کیوں نہ بھیجا؟ ـ
"تم بلوچستان ٹائمز کو فالو کرو” ـ میں بھلا کیسے فالو کرتی؟ میں یہ فالو کرنے کا جھوکم اٹھاتی تو کیا ساجد حسین کو فالو نہ کرتی، اب دیکھ لو غائب نہ ہوا؟ ـ ایک دفعہ تو میں از حد جذباتی ہوگئی ـ قریب تھا تم مجھ پر ایک ٹوئیٹر اکاؤنٹ کا بوجھ ڈال دیتے لیکن اللہ کے پاک و نیک نام نے عین وقت پر مجھے بچا لیا ـ گمشدگی ایک گھٹیا چیز ہے، گمشدگی انسان کو گمشدہ کردیتا ہے ـ پھر ایسی گمشدگی! ـ
ساجد اب تمہاری فوٹو کاپی بناؤں گی ـ قسم سے ـ وہ بھی رنگین ـ ایک بڑا سا پورٹریٹ بنا کر کسی جگہ لگا دوں گی ـ ویسے بھی تم متعدد دفعہ غائب رہ چکے ہو ، عین ہماری نگاہوں کے سامنے ـ کبھی کبھار مجھے گمان گزرتا تھا کہ تم شاید قوتِ گویائی سے محروم ہو اس لیے سوچتی تھی کسی طریقے سے تم کو پھرکا جائے تاکہ پتہ چل سکے تم ہو بھی یا نہیں ـ پر اس دفعہ تم نے دل پر لے لیا، ٹھیک نہیں کیا ـ ساجد حسین!
بعض باتوں پر میرا دل کہتا یہ بات ساجد کو بتانے والی ہے ـ تم اچھی طرح جانتے ہو ہر بات ہر کسی کو نہیں بتائی جاسکتی کچھ باتیں کچھ مخصوص افراد کے لیے ہوتی ہیں ـ تم سے مخصوص باتیں اگر میں نے مالی اور تاج سے شیئر بھی کی ہیں تو ان کو یہ ضرور بتایا کہ یہ بات ساجد کو بتانے والی ہے ـ
ایک دن ہم نے فیصلہ کیا ہم یہ خیال ذہن سے نکال دیں گے کہ تم لاپتہ ہو ـ ہم نے ہر بات پر کہنا شروع کردیا اگر ساجد یہاں ہوتا تو ایسا کہتا، پھر میں تمہاری بھاری آواز کی نقل اتارتی، ہم اس پر خوب ہنستے ـ میں تو کہتی رہتی تھی کہ ادھر ہم پریشان ہیں کہ ہمارا قومی اثاثہ کھو گیا ہے اور ادھر سے اچانک تم آکر پوچھو گے "ہاں پارٹی کیا حال چال ہے؟ ـ تمہارے ہاتھ اپنے نئے ناول کا مسودہ ہوگا "مسنگ ان دا ٹائمز آف کورونا” ـ تم نے ہمیں قرنطینہ سے نکال پھینک دیا ـ میں ہمیشہ دعا کرتی تھی اگر تم نے یہ سب جان بوجھ کر کیا ہے تو کاش تمہارے پیسے ختم ہوجائیں ، آڈیو بک کا اسٹاک کم پڑجائے، تمہارے گانوں کا ذخیرہ پرانے کیسٹ ریلوں کی طرح جل جائے، تم ڈر کر واپس آجاؤ اور کسی میں اتنی طاقت نہ ہو کہ تمہیں غائب کردے ـ سوال البتہ یہ ہے تمہیں تنہائی کیسے بھا گئی؟ ـ تم ایسے تو نہ تھے ـ چلو چھوڑو، سچ سچ بتاؤ تمہیں کن کن مواقع پر ہماری یاد آئی ؟ ـ میں تو کھانا کھانے کے دوران تمہیں یاد کرتی تھی، مالی ٹی وی دیکھتے ہوئے اور تاج ، جب تمہارے دل میں کوئی بات پھنس جاتی ـ
جانتے ہو، کبھی سوچا بھی نہیں تھا تمہاری تصویر میرے اسٹیٹس کی زینت بنے گی ـ یہ تکلیف دہ تھا ـ دل میں درد کی لہر اٹھتی تھی ـ ساجد میرے وجود کے نہاں خانوں میں بہتے خون سے گرم بھاپ اڑتی تھی ـ اس وقت لفظوں کی کم مائیگی میری تکلیف کو دو چند کردیتی تھی ـ
اپنے والد کی فوتگی پر میں شل ہوگئی تھی لیکن پھر ایک دن میں مطمئن ہوگئی ـ موت ایک مقام پر آکر مطمئن کردیتی ہے لیکن گمشدگی، پھر ایسی گمشدگی! ـ ساجد میرے والد کی فوتگی پر تم نے مجھے دلاسہ دینے کے لیے ایک آڈیو بک بھیجی تھی لیکن تمہاری گمشدگی پر میرا ذہن ماؤف ہوچکا تھا ، میں سمجھ نہیں پارہی تھی تمہاری ماں کو کیا بھیجوں ـ میں تو تمہیں عظیم سمجھتی تھی لیکن تم بھی دل پر لے گئے ـ ایسے چھوٹے موٹے کام تمہیں زیب نہیں دیتے ـ سویڈن میں لاپتہ ہونا! ـ ہم تو بھئی تمہاری گمشدگی پر نیم تفتیش کار بن گئے تھے ـ اڑے! ہم نے ایسی ایسی داستان طرازیاں کیں کہ کیا بتاؤں ـ روز نئی داستان، ہر آن ایک نئی تھیوری ـ
مالی نے تمہارے کپڑے اور میں نے جوتے پہنے جبکہ تاج تمہاری جگہ سوگیا ـ
ایک اور بات، ایک اور بات ……. تاج نے اپنی پُٹ یور لِگ والی انگریزی میں میڈیا، سویڈن پولیس، مسنگ پرسنز والوں کو نہایت ہی خود اعتمادی سے ہینڈل کیا ـ ایک دفعہ لیکن تاج کی ہمت بھی جواب دے گئی، جب وہ ریڈیو والوں کو بتا رہا تھا کہ ساجد میرے گھر پر تھا ـ اسے سننا تکلیف دہ تھا ـ قسم سے ایسا لگا جیسے کسی نے گردہ نکال دیا ہو ـ
پتہ ہے تمہارے دوستوں کے مضامین اور میڈیا رپورٹس میں مجھے ایک چیز کی شدت سے کمی محسوس ہوئی ….. ساجد ایک دلیر صحافی ہے لیکن وہ ایک نرم دل انسان بھی ہے ـ ساجد آنسو دیکھ نہیں سکتا، کسی کا درد برداشت نہیں کرسکتا، وہ کسی پریشان حال کو دیکھنے کا یارا نہیں رکھتا ـ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے، جس دن تم ہسپتال میں تاج کے ہمراہ روھیل کو دیکھنے آئے تھے ـ تم روھیل کو دیکھنے کی ہمت نہیں کرپائے اور بار بار تاج کو چلنے کا کہتے رہے ـ ایک وقت ایسا بھی تھا جب میں تمہارا بہت مذاق اڑاتی تھی ـ پھر تمہاری سینس آف ھیومر ـ وہ باتیں فی الحال رہنے دو ـ مالی یقیناً سمجھ گیا ہوگا ـ
میں ہر لمحہ سوچتی تھی تم اپنی گمشدگی کو خود بھی برداشت نہیں کرپاؤ گے ـ جب تمہیں پتہ چلے گا تمہاری ماں، شھناز، تاھیر، شاشان اور تمہارے دوست پریشان ہیں، تمہارا پتہ پوچھتے پھر رہے ہیں تو تم خود مضطرب ہوجاؤ گے ـ تم تو جانتے ہو جب ہم چھوٹے چھوٹے معاملات سے لے کر بڑے بڑے مسائل پر تم سے مشورہ کرتے ہیں تو ضرور تم سے تمہاری گمشدگی پر بھی سوال کریں گے ـ
ساجد! اب چونکہ تم لاپتہ ہوچکے ہو تو ہمیں بتاؤ ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ـ
(محترمہ مھلب نصیر بلوچی زبان کی ادیبہ ہیں ـ یہ تحریر انہوں نے بلوچ ویب سائٹ بلوچستان ٹائمز کے لیے لکھی تھی)