لاہور میں ایچ آر سی پی کی جانب سے منعقدہ سیمینار سے بلوچ ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ سعدیہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”بلوچستان میں اس وقت جبری گمشدگیوں کا مسئلہ انتہائی سنگین ہے۔ جبری گمشدگیوں کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں ہے جو دکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گمشدگیوں کا سلسلہ بلوچ نوجوانوں کے اندر اک خوف کا فضا قائم کرنے کیلئے شروع کیا گیا ہے۔ نا ریاست یہ سلسلہ بند کرنے والا ہے اور نا ہی بلوچ اپنے سیاسی جدوجہد اور حقوق سے دستبردار ہوں گے۔ ہم اس جنریش سے ہیں کہ جس سے پہلے ایک جنریش کا قتل عام ہو چکا ہے۔ ہمارے گزشتہ بلوچ طلبا قیادت ذاکر مجید، زاہد بلوچ،شبیر بلوچ اب بھی جبری لاپتہ ہیں کچھ کو مارا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس ملک کے مقتدرہ قوتیں نہیں چاہیں گے، ڈائیلاگ نہیں کریں گے، جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے،اس کا حل ممکن نہیں ہے۔وزرائے اعظم تو کئی گزرے ہیں، دعویٰ کیے ہیں، وعدے کیے ہیں۔جبری گمشدگیوں میں بیشتر ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں۔ہمارے ڈگریاں ہمارے لیے ڈیتھ وارنٹ بنے ہوئے ہیں، ہماری مائیں ہمیشہ سے اسی ڈر میں رہتے ہیں کہ کب انکے بیٹے کو جبری لاپتہ کیا جائے گا یا ماورائے عدالت قتل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ خواتین ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں، میں ابھی ایک دھرنے سے بھی آ رہی ہوں، جہاں پچاس دن بلوچ خواتین اپنے بھائیوں، والد یا فیملی ممبرز کی بازیابی کیلئے شب روز احتجاج پہ بیٹھے ہیں۔سمی اور سیما جیسی لڑکیاں دوسرے بلوچ لڑکیوں اور خواتین کیلئے مشعل راہ ہیں، جب وہ نکلتے ہیں جدوجہد کرتے ہیں تو دوسرے بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے نکلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم سیلاب پہ آتے ہیں تو یہ پہلی دفعہ نہیں ہے، موسمی تبدیلی اور ایک ایسے خطے میں رہنے کی وجہ سے ہر چند سال بعد سیلابی طوفان آتا ہے۔ ریاست سیلاب زدہ علاقوں میں رضاکارانہ کام کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ کل سے یہ نوٹیفکیشن بھی آیا کہ این او سی بغیر کو کام نہیں کر سکتا۔میرا جس علاقے جھل مگسی سے تعلق ہے وہاں موسمی تبدیلی کی وجہ سے لو کی شدت کا لوگوں کو سامنا ہے، لیکن جو ریاست ایک سڑک نہیں بنا سکتی ہمارے لوگوں کو climate change کی شدت اور طوفان سے کیسے ریسکو کریں گے؟
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے جس حصے میں سیلاب نے زیادہ تباہی مچا دی ہے وہ گرین بیلٹ کہلاتا ہے۔وہاں ریاست کے elite tribesmen رہتے ہیں،جن کو عام لوگوں کے جینے مرنے کی تو پرواہ ہی نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے گدام تو اب تک بھر دیئے ہوں گے لیکن عام عوام اب تک بھوکا مر رہا ہے۔