کوئٹہ: پارلیمانی کمیٹی وبلوچ لاپتہ افراد لواحقین مابین مزاکرات بعد دھرنا ختم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کے دھرنے کو آج پچاس دن ہوگئے۔

زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے جاری احتجاجی دھرنے کو آج 50 دن مکمل ہو گئے۔پچاس دن مسلسل احتجاج جاری رکھنے سے اکثر لواحقین بیمار پڑ گئے ہیں۔

حکومت پا کستان کیپارلیمانی کمیٹی کی ایک اعلیٰ سطحی سات رکنی وفد جس میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، سینیٹر کامران مرتضیٰ اور دیگر شامل تھے نے آج کوئٹہ پہنچ کردھرنے میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملے اورمذاکرات کئے۔ جہاں انھوں نے کامیاب مذاکرات کرنے بعد گذشتہ پچاس دنوں سے جاری دھرنے کے اختتام کا اعلان کردیاگیا۔

مذاکرات کی تفصیلات لاواحقین جاری کریں گے۔

واضح رہے کہ 21 جولائی سے جاری دھرنے کے دوران بھی اب تک بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ تھما نہیں ہے بلکہ اسی دوران ریاستی فورسز کی جانب سے نام نہاد آپریشن کے نام پر فیک انکاؤنٹر میں لوگوں کے قتل کے پانچ واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جن سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ جبری گمشدگیوں اور فیک انکاؤنٹر کا روکنے میں یہ ریاست اب تک سنجیدہ نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment