بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں جاری لاپتہ افراد لواحقین کے دھرنا سینتالیس 47 دنوں جاری ہے، اکثر لواحقین بیمار ہو گئے۔
زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے جاری احتجاجی دھرنے کو آج 46 دن مکمل ہو گئے۔ 2013 میں جبری گمشدگی کے شکار داد محمد مری کی ہمشیرہ خیر بی بی نے آج کوئٹہ ریڈ زون میں جاری لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے میں شرکت کی اور سالوں سے لاپتہ اپنے بھائی کے بازیابی کا مطالبہ کیا۔
سینتالیس دن مسلسل احتجاج جاری رکھنے سے لواحقین بیمار پڑ گئے ہیں، احتجاجی کیمپ میں انکے طبعی امداد آج بھی جاری رہا۔
آج اور گزشتہ دنوں لواحقین کی جانب سے جاری کردہ کچھ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سمی دین، سیما بلوچ، سعیدہ حمید، ماہ زیب، بیبو قمبرانی اور دوسرے لواحقین نے ڈرپ لگایا ہے، مسلسل احتجاج سے لواحقین بیمار ہو رہے ہیں لیکن چند پرلانگ پہ محلات میں بیٹھے بے حس حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے۔
احتجاجی دھرنے میں بیٹھی سمی دین بلوچ کا کہنا ہے کہ ” سینتالیس دنوں کے ہمارے اس دھرنے میں موجود لواحقین جو اپنے پیاروں کی بازیابی اور زیارت میں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے جبری گمشدگیوں کے شکار لاپتہ افراد کے لیے بیٹھے ہیں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مجھ سمیت تمام لواحقین اس وقت بیمار ہیں اور کیمپ میں ہی انکی طبعی امداد جاری ہے۔
اتنی بے حس بے بس حکمران شاید ہی دنیا کے کسی تاریخ کے اوراق میں مل جائیں ہمارا مطالبہ بس اتنا ہے ہم پر اس ریاست کے دیگر شہریوں کی طرح آئین اور قانون کا اطلاق کریں۔کسی شہری کو سالاں سال جبری لاپتہ نہ کریں ان پر مقدمات عدالتوں کے زریعے چلائیں۔مگر آئین کی پاسداری کون کرئے؟