کوئٹہ: بلوچ لاپتہ افراد دھرنا مظاہرین نے احتجاجاً شاہراہیں بلاک کردیں

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاجی دھرنے کو آج 44 دن مکمل ہو گئے۔

دھرنا لواحقین کے کال پر آج صبح گیارہ بجے سے جی پی او چوک اور سرینا چوک ٹریفک کیلئے بند کردیئے گئے، لواحقین نے اپنے احتجاجی پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے آج ایک مرتبہ پھر کوئٹہ کے دو مین چوک صبح سے لیکر شام پانچ تک ٹریفک کیلئے بند کیئے تھے، جس کی کال وہ دو دن پہلے دن پہلے دے چکے تھے اور عوام سے تعاون کی اپیل کی گئی تھی۔

دریں اثناء لواحقین نے صوبائی حکومت کے ایک وفد کی اس یقین دہانی پہ کہ انکو جلد رابطہ کیا جائے گا اور انکے مسئلے کا حل نکالا جائے تب جاکر لواحقین نے اپنا روڈ بلاک احتجاج ختم کیا اور واپس دھرنے کی مقام پر منتقل ہو گئے جہاں دھرنا بدستور جاری رہے گا۔

لواحقین نے کہا کہ وہ انتہائی مجبوری کی حالت میں روڈ بلاک کے احتجاجی پروگرام کو وسعت دے رہے ہیں کیونکہ حکومت ان کے مطالبات پر عملدرآمد کیلئے بالکل بھی سنجیدہ نظر نہیں آ رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گواہے کہ ہم دو دن پہلے مذکورہ چوک پہ روڈ بلاک کا اعلان کر چکے تھے لیکن پھر بھی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کچھ شہریوں نے ہمارے پر امن احتجاج کا احترام نا کرتے ہوئے لواحقین پہ گاڑی اور موٹر سائیکل چڑھانے کی کوشش کی تھی۔

ہمیں کوئٹہ کے عام شہریوں کی تکلیف کا بخوبی اندازہ ہے، سوچنے کی بات ہے کہ جب کسی کے روزمرہ زندگی میں تھوڑی سی خلل آجاتی ہے تو لوگ تکلیف میں ہوتے ہیں، ہماری زندگیوں کو تو سالوں سے درد اور تکلیف میں ڈالا گیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment