بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کے احتجاجی کیمپ کو4747 دن ہوگئے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اورشہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو4747 دن ہوگئے ہیں۔

شال سے سیاسی اور سماجی کارکنان داود اچکزئی، نور محمد خلجی سمیت دیگر مرد اور خواتین نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں خصوصا پنجگور کے علاقوں میں گزشتہ کئی روز سے سرچ آپریشن جاری ہے جس دوران ایف سی کے اہلکاروں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں پر تشدد کی ہے۔ گھروں میں موجود نقدی اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ متعدد علاقے اب بھی محاصرے میں ہے ایک بڑے آپریشن کی تیاری کی جارہی ہے، مکمل علاقے کو گھیرے میں لئے ہوئے ہیں۔

علاقے میں مقامی آبادی کو مسلسل حراساں کیا جارہا ہے پورے آبادی میں خوف و حراس کا ماحول ہے ایک طرف سے قدرتی آفات اور سیلاب کی پریشانی دوسری طرف آپریشن کی تیاری کی جارہی ہے۔

بلوچستان بھر میں ایف سی خفیہ اداروں کی کارروائیاں شدت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ فورسزاپنی پے در پے ناکامیوں کو چھپانے کیلئے مسلسل مقامی آبادیوں کو براہ راست اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن اپنی تمام تر ظلم و ستم کے باوجود پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کو ناکامی کا سامنا ہے۔

بلوچ پرامن جدوجہد کے خلاف مراعات ترقی اور نوکر یا اپنے گماشتہ سیاسی تنظیمی جماعتوں کو استعمال کرنے کے باوجودپرامن جدوجہدکو عوامی حمایت اور بین الاقوامی توجہ حاصل کرچکی ہے اقوام متحدہ کی جانب سے لاپتہ بلوچوں کے معاملے میں اقدامات ایک مثبت قدم ہے جس سے بلوچ قوم کی تاحید ہوتی ہے جبکہ پاکستانی اداروں کی جانب سے حقائق سے چشم پوشی اور مسلسل جھوٹ کا سہارا لیا جارہا ہے جس کا پول کھول رہا ہے اور ان کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار ہورہی ہے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے لاپتہ افراد کے معاملے پر اقدام اور بلوچستان میں پاکستانی حکمرانوں کی ناکامی کے واضع امکانات سے پاکستانی حکمرانوں اور ان کے گماشتے حواس باختگی کا شکار ہوچکے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment