بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاجی دھرنے کو آج بتالیس دن مکمل ہو گئے۔
دھرنے پہ بیٹھے لواحقین نے اعلان کیا کہ حکومت ہمارے جائز اور آئینی مطالبات کی منظوری کیلئے سنجیدہ نہیں ہے لہٰذا ہم مجبوراً پرسوں جمعہ کے دن صبح دس بجے سے جی پی او چوک اور سرینا چوک ٹریفک کیلئے بند کریں گے، کسی بھی ایمرجینسی حالت میں روڈ نہیں کھولا جائے گا،عوام سے اپیل ہے کہ وہ اس دن کوشش کرے کہ متبادل راستہ اختیار کریں۔اگر اس سے عام لوگوں کو تکلیف پہنچے گی تو اسکی زمہ دار ریاست ہوگی، جو اپنے شہریوں کو سننے انکے جائز مطالبات پہ عملدرآمد کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
لواحقین نے کوئٹہ کے باشعور عوام اور تمام سیاسی پارٹیوں کے زمہ داران اور کارکنان سے اپیل کی کہ وہ ان کا ساتھ دیں اور تعاون کریں۔
آج دھرنے میں نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جان محمد بلیدی، صوبائی صدر رحمت بلوچ نے پارٹی وفدکے ساتھ بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی احتجاجی دھرنے میں شرکت کی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور جبری گمشدگیوں کے معاملے میں لواحقین سے ہر ممکن مدد کرنے اور آواز اٹھانے کی یقین دہانی کیے۔