بلوچستان کے شہر پشین اور مچھ میں ڈیم ٹوٹنے اورمکان کی چھت گرنے کے دو الگ الگ واقعات میں 8افرادہلاک ہوگئے۔
شمال مشرقی بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں بارشوں کاسلسلہ تھم گیا، تاہم پشین کے علاقے توبہ کاکڑی میں 2 ڈیم ٹوٹنے سے تین افراد ہلاک ہوگئے۔
لیویز کنٹرول کے مطابق پشین کے نشیبی علاقے سے دو افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔
ادھر چمن کے پہاڑی علاقوں کی رابطہ سڑکیں تباہ ہونے سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ شہر سے منقطع ہوگیا ہے۔
لیویز کنٹرول کے مطابق توبہ اچکزئی میں گزشتہ شام کدنی کے 3 ڈیم ٹوٹنے کے بعد سیلابی صورتحال ہے، توبہ اچکزئی میں دو بندی، کدنی، فراخی، اغبرگ، تاشرباط میں سینکڑوں ایکڑ پر باغات متاثر ہوئے ہیں جبکہ پل اور رابطہ سڑکیں بہہ جانے سے توبہ اچکزئی کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔
لیویز ذرائع کا بتانا ہے کہ کوئٹہ زیارت قومی شاہراہ پر 4 پل اور 7 مقامات پر سڑک بہہ گئیں، جس سے ضلع زیارت کا ملک بھر سے 3 دن سے زمینی رابطہ منقطع ہے، یہی نہیں باب زیارت کے اطراف کئی دیہات کے درجنوں گھر سیلاب میں بہہ گئے ہیں جبکہ زیارت کالج اور فٹبال اسٹیڈیم کو بھی نقصان پہنچا ہے
۔لیویز کنٹرول کے مطابق درہ کوژک کے پہاڑوں میں ریلوں نے پانی کے قدرتی ذخیرے تباہ کر دیے ہیں، پرانا چمن، توزی اور دیگر دیہات میں پانی کے قدرتی چشمے اور کاریز سسٹم تباہ ہو گئے، کوئٹہ کراچی،کوئٹہ بولان، جیکب آباد شاہراہ کئی مقامات پر بہہ جانے سے بند ہے جبکہ دھانا سر میں کوئٹہ ڈی آئی خان، فورٹ منرو میں کوئٹہ ڈی جی خان پر شاہراہ بھی بند ہے۔
دوسری جانب مچھ میں مکان کی چھت گرنے سے 5افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ہلاک افراد میں 4خواتین اور ایک نوجوان شامل ہے۔
پولیس کے مطابق خاتون کی دو بیٹیوں اور پوتیوں اور پوتے کی لاشیں نکال دی گئی جنہیں مقامی ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں ضرور ی کارروائی کے بعد لاشیں ورثائکے حوالے کردی گئیں۔