ہم خود تکلیف میں ہیں، کسی کو تکلیف دینے کا سوچ نہیں سکتے، کوئٹہ دھرنا مظاہرین

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں دھرنا دیئے بیٹھے بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہم پر امن جدوجہد اور طریقہِ احتجاج پہ یقین رکھتے ہیں، ہم پچھلے 35 دنوں سے بالکل پر امن طریقے سے یہاں احتجاج پہ بیٹھے ہیں جہاں آج تک کوئی تک شیشہ نہیں ٹوٹا ہے، ہم سالوں سے اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے غم میں نڈھال انتہائی درد اور تکالیف میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں تکلیف کا احساس نہیں بلکہ ہم تکلیف میں زندگی گزار رہے ہیں، ہم کسی دوسرے کی تکلیف کیسے چاہتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ کل جب ہم نے مجبوراً روڈ بلاک کیا تھا تو شہریوں نے ہمارے مجبوریوں کو نا سمجھتے ہوئے ہمارے ساتھ تعاون نہیں کیا جو زبردستی چھوٹے بچوں اور بوڑھی عورتوں پہ موٹر سائیکل اور گاڑیوں کو چڑھانے کی کوشش کرتے رہے اور زبردستی روڈ کھولنا چاہتے تھے، جبکہ ہماری شروع سے یہ کوشش رہی ہے کہ ہم پر امن رہیں اور ہم آئندہ بھی پر امن رہیں گے.
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دوران ہمیں گالیاں دی گئیں، ہمارے ہر امن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس بجائے کہ حالات کو کنٹرول میں رکھتے یا ہمارے ساتھ تعاون کرتے بلکہ وہاں خاموش تماشائی بنا رہا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment