لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج اور ریاستی ہٹ دھرمی | ڈاکٹر جلال بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
16 Min Read

بلوچستان میں قابض ریاست کے خفیہ اداروں کے ہاتھوں بلوچوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کی تازہ لہر بیس سال قبل شروع ہوا جس میں آئے روز شدت آتی گئی۔ پہلے پہل بلوچ فرزندوں کو ریاستی خفیہ اداروں اور دیگر عسکری اداروں کے اہلکار جبری طور پر لاپتہ کرتے جن میں سے کبھی کبھار چند ایک کو ریاستی ادارے آزاد کیا کرتیتھے، جبکہ 2009ء میں لاپتہ کیے جانے والے افراد کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ شروع ہوا، آگے چل کر مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کے ساتھ بلوچستان میں اجتماعی قبریں بھی دریافت ہوئیں اس حوالے سے خضدار کا علاقہ ”توتک“ ڈیرہ بگٹی اور پنجگور میں ایسی قبریں ظاہر ہوچکی ہیں۔ اجتماعی قبروں کے بعدریاستی سرپرستی میں بننے والی بلوچ دشمن گروہ جنہیں حرفِ عام میں ڈیتھ سکواڈ کہا جاتا ہے ان کے ذریعے بلوچوں کو نشانہ بنانے کے واقعات تواتر کے ساتھ ہوتے رہیں۔ حاجی رمضان زہری اور شہید ”بانک ملکناز“ سمیت لاتعداد بلوچ اس ریاستی ہتکھنڈے کا شکار بنیں، بانک ملکناز کو ان درندوں نے گھر میں گھس کر گولیوں سے چلنی کرڈالا اور اس کی کمسن بچی ”برمش“ شدید زخمی ہوگئی۔ ابھی یہ درندگی ختم نہیں ہوئی تھی کہ سی ٹی ڈی کا ادارہ معرض وجود میں لایا گیا اس ادارے نے بربریت میں مزید اضافہ کیا یہ ادارہ نہ صرف جعلی مقابلوں میں بلوچوں کو شہید کرنے جیسے جرم کا ارتکاب کرچکی ہے بلکہ گھروں میں زبردستی گھس کر معصوم اور نا بالغ فرزندوں تک کے قتل کو جائز قرار دیتی ہے جس طرح بلیدہ میں دس سالہ”رامز بلوچ“ کی شہادت کا واقعہ۔اس ادارے کے قیام کے بعدریاستی خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کے واقعات میں شدت آئی ہے، سلسلہ شروع ہوا ہنوز جاری ہے۔ریاستی قہرمانیوں کے خلاف بلوچوں کا احتجاج اور بربریت کے خلاف مزاحمت بھی نہ صرف طویل ہے بلکہ ان کی استقامت کی داد دینی پڑے گی، جو باد وباران کے طوفان ہوں، یا جھلسا دینے والی گرمی یا موسمِ زمستان اور سب سے بڑھ کر ریاستی مظالم جنہیں بیان کرتے ہوئے بھی رونگھٹے کھڑے ہوجائیں ایسے حالات میں یہ طویل جدوجہد ناقابل بیان ہے جہاں وہ بے خوف و خطر دشمن سے مقابلے پہ اترآئے ہیں۔

بلوچستان قبل از تاریخ سے لیکر حالیہ دور تک استحصالی قوتوں کے نشانے پہ رہاہے۔ میڈین دور ہو، چاہے ہخامنشی دورِ حکومت، یونانی ہوں یا ساسانی، موریاخاندان ہو یا عرب، پرتگیزی ہوں یا انگریزہر ایک نے بلوچ نسل کشی اور وسائل لوٹنے کے لیے سردھڑکی بازی لگائی۔ماضی کے دشمنوں کے برخلاف انگریزوں نے جو چال چلی اس سے بدتر کوئی مثال نہیں،جب انہوں نے یہاں سے رخت سفرباندھ لیا تو جاتے جاتے بلوچستان کو اپنے لے پالکوں (پنجابیوں)کے رحم و کرم پرچھوڑا۔ پر تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جتنے بھی حملہ آور آچکے ہیں یا جنہوں نے اس خطے کو ہڑپنے کی کوشش کی، انہیں بلوچ مزاحمت کے سامنے منہ کی کھانی پڑی۔ مزاحمت اور اس مزاحمت کو انجام تک لے جانا بلوچوں کی روش رہی ہے جس میں انہوں نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی۔ اسی لیے فردوسی کہتا کہ
”کسی درجھان پشت ایشاں نہ دیست“
مزاحمت میں یہ ثابت قدمی ان کی وطن دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فردوسی نے تو میڈین حکمران کیخسرو کے زمانے کی مثال دی ہے اسی طرح تاریخ انہیں ہر دور میں اسی عزم کے ساتھ ظاہر کرتی ہے۔مزاحمت کی یہ تاریخ بہت طویل ہے، اس سفر میں لاکھوں فرزندوں نے جانوں کا نذرانہ دیا ہے، لاکھوں قید و بند سے ہو کے گزرے ہیں اور گزررہے ہیں۔۔۔آہ! یہ آتش نمرود اور بلوچ۔

بیش بہامعدنیات سے مالا مال خط، عظیم تر ساحل، سربفلک پہاڑی سلسلے، ریتِ رواں کا سلسلہ اور سب سے بڑھ کر تہذیبوں کی جنم بومی جس نے اپنے حصے کا زیادہ تر حصہ مصائب میں گزارا۔یہ مصائب کبھی قدرتی آفات کی صورت میں مہرگڑھ اور دیگر قدیم آبادیوں کی تباہی کا پیش خیمہ بنتے تو کبھی کسی بیرونی حملہ آور کا قہر یہاں نازل ہوتا۔ قدرتی آفات ہوں یا اغیار کی یلغار یہاں کے باسیوں نے اپنی استقامت سے انہیں زیر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اسی لیے تو جب کوئی بستی قدرتی آفت سے اجڑ جاتی تو مادر وطن کی کوکھ سے جنم لینے والے اسے دوبارہ آباد کرنے میں سستی ہ کاہلی نہیں دکھاتے، اسی طرح ہر دور میں بیرونی یلغار کے سامنے بھی بلوچوں نے سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کیا ہے۔ مزاحمت اور استقلال کا یہی جذبہ ہے جس نے گیارہ ہزارسال سے اس قوم کو اپنی شناخت برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

گیارہ ہزارسالہ تاریخ کا مالک، ان کی ہزاروں سالوں پہ محیط مزاحمت۔۔۔اب کی بار کی جو مزاحمت ہیاگر بلوچ تاریخ سے اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو المختصر یہی کہا جاسکتا ہے کہ گیارہ ہزاسالوں میں پچھتر سال کی مسافت تو کچھ بھی نہیں البتہ اب کی بار دشمن جو کہ ماضی کے مقابلے میں ان تمام قوتوں سے طاقت کے لحاظ سے انتہائی کمتر ہے لیکن یہ تہذیب سے عاری ہے جس سے فقط”شر“ کی امید ہی کی جاسکتی ہے۔کبھی کبھار ایسا گمان ہوتا ہے کہ حالیہ دشمن(پاکستان) خاکی (اولاد ِ آدم) نہیں بلکہ کسی اور شئے سے بنائی گئی مخلوق ہے یا کوئی ربورٹ نما چیز ہے جس میں احساس کامادہ ہوتا ہی نہیں۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ پاکستانیوں کے مظالم کا بیانیہ ہے جن کا عکس ہم اس کے حالیہ مقبوضات سمیت بنگال، افغانستان، حتیٰ کہ مشرق وسطیٰ ایشیا اور یورپ تک میں دیکھ سکتے ہیں جہاں دہشت و وحشت کی تمام کڑیاں اسی سے آکے ملتی ہیں۔ اس غیر فطری ریاست کے تمام تر مظالم کے باوجود بلوچ جس انداز سے اس کے سامنے ڈھال بنے ہوئے ہیں اسے چار پیرائے میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔

پاکستان کے خلاف بلوچوں کی مزاحمت گزشتہ پچھتر سالوں سے جاری ہے لیکن حالیہ صدی کی مزاحمت نے ایک مختصر مدت میں ایسی صور ت اختیار کی ہے جس کی مثال شاید ہی تاریخ ملتی ہو۔ اس قرن کی جدوجہد نے جہاں ایک جانب شہدا کے لہو سے ہر شاخ شجر کو رنگ حنا بخشی ہے تو دوسری جانب مہرگڑھ کی دیویوں نے اپنی مزاحمتی کردار سے تحریک کو آب حیات فراہم کی ہے۔ایسی تحریک جہاں غم و الم کے عالم میں بھی عاشقانِ وطن کے چہروں پہ مسکراہٹیں ہوں وہ تحریک کیسے نیست و نابود ہوسکتی ہے، ایسی تحریک جس میں ایک بچی گزشتہ تیرہ سالوں سے اپنے والد کی بازیابی کے لیے فرعونِ وقت کا مقابلہ کررہی ہے وہ تحریک کیونکر منزل سے بے بہرہ ہوسکتی ہے، ایسی تحریک جس میں چار سالہ معصوم بچیاں بھی عزم و استقامت کا پیامبر بنیں، اسے زوال کہاں، ایسی تحریک جس میں بیساکیوں کے سہارے چلنے والی ماؤں کا حوصلہ چلتن سے بلند ہو، اسے بلندیاں سرکرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔۔۔یہی اس تحریک کی خوبصورتی ہے کہ اس میں ہرجانب حوصلوں کا مینار دیکھاجاسکتا ہے۔وہ چاہے ڈاڈائے بلوچ کی پیراسالی میں جدوجہد ہو، یا وحید(بالاچ) جیسے کمسن کا دشمن کو للکارنا، سمی کی تیرہ سالی جدوجہد ہو، یا سیما کا لازوال کردار جس نے اس تحریک کو ایک نئی جہت بخشی ہے، ماما قدیر کا انمٹ کردار ہو جسے بیان کرنے کے لیے بھی افلاطونی ذہن کی ضرورت پڑتی ہے یا بابا خیربخش کی مستقل مزاجی جس نے پانچ عشروں سے زائد تحریک کی بھاگ ڈور سنبھالی اور جب بھی لب کھولا تومختصرپیرائے میں کتاب ِ ضخیم بیان کی، ایک وہ بھی ہے جس نے تحریک کا بناؤ سینگھار کچھ اس انداز سے کیا جسے فنا نہیں۔۔۔ غلام محمد بلوچ۔۔۔ہاں میں غلام محمد کی بات کررہا ہوں جنہوں نے وقت کے فرعونوں وہ چاہے آباد کار ہوں یا بلوچیت کے لبھادے میں پہروپیے، قوم اور وطن کے ان تمام دشمنوں کے سامنے نہ صرف سیسہ پلائی دیوار بنی رہی بلکہ مقصد کے حصول کے لیے منطقی راہوں کا تعین کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔انہی کی سوغات ہے کہ مادروطن کا ہر فرد قومی بقا کے لیے سوچنے پہ مجبور ہے، وہ یہ جان چکے ہیں کہ اس ریاست میں ہمارے لیے تسکین کا کوئی گوشۂ نہیں، سوچنے اور پرکھنے کی وجہ سے بلوچوں نے جدوجہد وہ چاہے پرامن ہو یا مسلح کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع کررکھا ہے، اس جدوجہد میں مادروطن کا شاید ہی کوئی گوشہ ہو جہاں لوگوں نے اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری طرح سے نہ نبھائی ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بلوچ تحریک کی بہت بڑی کامیابی ہے جس نے ایک مختصر مدت میں ہرکوچہ و گدان میں اپنے فطری حقوق کے لیے لوگوں تک اپنی آواز پہنچائی، یہ آواز آج اس قدر توانا ہے جسے روکنے کے لیے اس غیر فطری ریاست نے ہر وہ حربہ آزمایا جو کسی غیرمہذب کا شیوہ ہوتا ہے۔ ان ریاستی حربوں میں چاہے بم وبارود کی بارش ہو، ویرانوں میں بچے، بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں ان کی جبری گمشدگی از بعدمسخ شدہ لاشیں پھینکنا، گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹانا، لوگوں کو جبری طور پر علاقہ بدر کرنا، لوٹ کا بازار گرم رکھنا، نام نہاد قوم پرستوں کا خودکوصادق و جعفر کے سانچے میں ڈالنا، یا مذہب کا بطور ہتھیار استعمال، الغرض کوئی ایسا حربہ نہیں بچا جسے تہذیب سے عاری اس ملعون ریاست نے بلوچوں پہ نہ آزمایاہو۔ جب ظلم وبربریت اس نہج پہ پہنچ جائے تو سماج میں خوف کا وقوع پذیر ہونا فطری عمل بن جاتا ہے ان حالات میں اگر ہرگدان و کوچے سے لوگ اٹھنے لگیں تو یہ بہت بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے اور بلوچوں نے اس جدوجہد میں اپنی شمولیت سے دنیا پہ یہ واضح کردیا ہے کہ اب ”نوید آزادی یا پھر موت“ کیوں کہ اب واپسی کی راہیں مسدود ہوچکی ہیں اور طارق نے اپنی کشتیاں جلادی ہیں۔

تمام ظلم و بربریت کے باوجود بیس سال سے چلنے والی تحریک میں پرامن احتجاج کے سلسلے کو چھوڑ ہم فقط گزشتہ چونتیس(34) دنوں سے پاکستانی عسکری اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کے لواحقین جو بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں سراپا احتجاج ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہیں ان کا حوصلہ، ان کی ثابت قدمی اور سب سے بڑھکر بادوباراں جس نے اپنی طغیانیوں سے خطے کو تہہ و بالا کرڈالا اور آج ریاستی پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی جس سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کراچی واقعہ کی طرح ایک مرتبہ پھر بلوچ ماں بہنوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی، لیکن مجال کہ حوا کی بیٹیوں اوربلوچ فرزندوں کے قدم لرزاں ہوں۔ احتجاج کا یہ سلسلہ زیارت واقعہ کے بعد شروع ہوا جہاں ریاستی عسکری اداروں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ ہونے والے گیارہ بلوچ فرزندوں کو قابض ریاست نے جعلی مقابلے میں شہید کرکے اسے مقابلے کا نام دیا حالانکہ قتل ہونے والے اکثرافراد کا نام جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم”وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز“ کی فہرست میں درج تھا اور ان کے لواحقین ایک عرصے سے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج بھی کررہے تھے۔لیکن ریاست ٹھس سے مس نہیں ہورہی، اس کا ماضی دیکھ کر یہ کہنا حق بجانب ہے کہ اس سے اور اس کے زرخریدغلاموں سے جو فقط جھوٹی تسلیاں دینے آتے ہیں، جھوٹے وعدے کرکے لواحقین کے زخموں پہ نمک پاشی کرتے ہیں، ریاستی نمک کا حق ادا کرنے اور ایوانوں میں اپنی جگہ پکی کرنے کے لیے ہمہ وقت مکر و فریب کے جال بنتے ہیں جس کی بہت ساری مثالیں ہمارے سامنے ہیں وہ چاہے ڈیرہ بگٹی میں دس لاشیں اور اس کے ردِ عمل میں جہلاوان میں سو لاشیں گرانے والا نعرہ ہو، چھ نکات ہوں، یا سال قبل جبری طور پر لاپتہ ہونے افراد کی بازیابی کا ڈرامہ عسکری اداروں سے جن کے پرامن رہنے کی ذمہ داری انہوں نے لی، اور در پردہ ایسے نام نہاد قوم پرست کبھی شفیق مینگل سے اتحاد کرتے ہیں، کبھی سردار عزیز جیسے ڈیتھ سکواڈ کے سرغنہ کو اپنا ہمنوا بناتے ہیں تو کبھی بلوچوں کو اجتماعی قبروں کے تحائف دیتے ہیں، اور کبھی چائنا کو تسلیاں دے کر اسے بلوچستان لوٹنے کی شۂ دیتے ہیں۔۔یہ ہے ان سوداگروں کا کردار اور ضمیر کے ایسے سوداگروں سے امید کی آس بھی نہیں لگائی جاسکتی۔ منزل تک پہنچنے کے لیے مزاحمت کے اس جذبے کو مزید پروان چڑھانا ہوگا، اسی میں عافیت ہے اور اسی میں قومی بقا کا راز پوشیدہ۔

٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment