کوئٹہ: بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کا دھرنا34 ویں دن میں داخل، اسمبلی چوک بلاک

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کو چونتیس (34) دن ہو گئے۔

زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے کو آج چونتیس دن مکمل ہو گئے، پچاس کے قریب بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پچھلے ایک مہینے سے اوپر اپنے جائز آئینی مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

آج لواحقین نے اپنے احتجاجی پروگرام کو مزید وسعت دیتے ہوئے اور ڈی سی او کوئٹہ کے کل والے وعدہ خلافی پر مجبوراً پھر سے جی پی او چوک اور اسمبلی چوک سرینا ہوٹل کے سامنے روڈ بلاک کیا۔

آج صبح گیارہ بجے سے جی پی او چوک اور بارہ بجے سے اسمبلی چوک کو بھی ٹریفک کیلئے بند کیا گیا، اسمبلی چوک پہ ڈی سی او اور ایس ایس پی کوئٹہ نے آکر مظاہرین سے مزاکرات کیئے اور کہا کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ڈی آئی جی آکر آپ لوگوں سے ملاقاتیں کریں گے، اس موقع پر لواحقین کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملاقات کرنے نا آئیں بلکہ انکے پاس ہمارے مسئلے کا حل ہونا چاہیے، ڈی سی او اور ایس ایس پی کے منت سماجت اور اس یقین دہانی پر کہ وہ اس مسئلے پر متعلقہ حکام سے میٹنگز کریں گے اور دات دس بجے تک متعلقہ زمہ داران ان سے ملنے ضرور آئیں گے تب جا کر لواحقین نے اسمبلی چوک اور پھر شام پانچ بجے جی پی او چوک پہ روڈ بلاک ختم کر دیا۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے جنرل سیکرٹری سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمیں کوئٹہ کے لوگوں کے تکلیف کا ادراک ہے، لیکن ہم مجبور ہیں کہ روڈ بلاک کریں تاکہ ہمیں دیکھا اور سنا جائے، ہم پچھلے چونتیس دنوں سے خیمے لگا احتجاجی دھرنے پہ بیٹھے ہیں، ہمارے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے اور بوڑھی بیمار عورتیں ہیں جنکے پیارے سالوں سے جبری لاپتہ ہیں تو عام لوگوں کو انکے بھی درد اور تکلیف کا احساس ہونا چاہیے اور ہمارے جائز آئینی مطالبات کی منظوری کیلئے ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ روز بھی اپنا روڈ بلاک احتجاج ڈی سی او کوئٹہ شے حق بلوچ سے انکے بلوچی زبان کی خاطر کرتے ہوئے ختم کیا تھا، ہمیں معزرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنے بلوچی زبان کی لاج نہ رکھی، مگر ہم آج پھر ہم ڈی سی او اور ایس ایس پی کوئٹہ کی یقین دہانیوں پہ روڈ بلاک احتجاج ختم کر رہے ہیں اور انکے مقررہ وقت کا انتظار کر رہے ہیں، اگر ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ڈی آئی جی ان سے ملنے اور ہمارے مسلے کا حل نہیں لائے تو ہمیں مجبوراً اپنے احتجاجی پروگرام کو مذید وسعت دیتے ہوئے آنے والے کل اس سے بھی سخت ترین لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔

دریں اثناسمی دین بلوچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پربلوچستان کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ قدوس بزنجو کے اس بیان پہ کہ ” جبری گمشدگیوں کا مسئلہ صوبائی مسئلہ نہیں ہے، بلوچستان میں احتجاج کرنا سمجھ سے باہر ہے” انہوں نے اس پہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے کہ ریڈ زون میں بیٹھے ہیں، وہ اسلام آباد بھی گئے ہیں اور اس وقت کے وزیراعظم سے بھی مل چکے ہیں۔

آرمی چیف ان سے ملاقات نہیں کرتے، کور کمانڈر ان سے نہیں ملتے تو وزیر اعلیٰ صاحب بتا دیں کہ ہم آخر کہاں جائیں؟

واضح رہے کہ گورنر ہاؤس کے سامنے لواحقین کے دھرنے کو ایک مینے سے زیادہ کا مدت ہو چکا ہے لیکن اب تک انکے مطالبات کو ماننے یا سننے میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment