کوئٹہ: حکومت بلوچستان کا بلوچ لاپتہ افراد لواحقین کو دھرناختم کرنیکا حکم

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقینکے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کو بتیس (32) دن ہو گئے۔

زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے کو آج بتیس دن مکمل ہو گئے۔

آج کیمپ میں حکومتی وفد صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، پارلیمانی سیکرٹری ایس اینڈ جی ڈی اے بشریٰ رند، ایم پی اے اختر حسین لانگو، ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار تشریف لائے، صوبائی وزیر اور اراکین اسمبلیز نے دھرنے کے شرکاء لواحقین سے اظہار یکجہتی بھی کیا اور ساتھ دھرنا کے شرکا لواحقین سے مزاکرات بھی کرتے رہے کہ کسی مفاہمتی حوالے سے انکو منایا جا سکے، حکومتی وفد کا کہنا تھا کہ لواحقین دھرنا ختم کر دیں اپنے اپنے گھر جائیں اسکے بعد انکے مطالبات اور مسائل کیلئے حل دیکھا جائے گا، ان کا مزید کہنا تھا بلوچستان سیلاب زدہ ہو چکا ہے، آفت زدہ حالت میں لواحقین اپنے گھر چلے جائیں، وفد سے ملاقات اور مزاکرات سے کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا جس سے لواحقین کو مطمئن کیا جا سکے کہ وہ دھرنے کا ختم کر دیں، لواحقین کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد ایک مہینے گزرنے کے بعد ہمیں یہ کہنے تشریف لائے کہ آپ لوگ دھرنا ختم کرکے اپنے اپنے گھر چلے جائیں اسکے بعد دیکھا جائے گا –

پچاس کے قریب لواحقین پچھلے ایک مہینے سے زیادہ موسم کی شدت میں ریڈ زون میں گورنر ہاؤس کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔
خضدار سے 22 جولائی 2017 کو جبری لاپتہ محمد انور ولد محمد کی والدہ نے آج دھرنے میں شرکت کرکے اس کا حصہ بنے اور اپنے بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

آج شدید بارشوں کی وجہ سے خیموں میں پانی بھر آیا، جس سے لواحقین کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

واضح رہے کہ گورنر ہاؤس کے سامنے لواحقین کے دھرنے کو ایک مینے سے زیادہ کا مدت ہو چکا ہے لیکن اب تک انکے ہمارے مطالبات کو ماننے یا سننے میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔

Share This Article
Leave a Comment