درد کی داستان| ذاکر بلوچ

0
241

بلوچستان کی تاریخ درد بھری حقیقت پر مبنی ہے۔یہی درد کی داستان سن سن کر بچے بڑھے ہوجاتے ہیں لیکن اس درد کی دوا صرف اور صرف آزادی میں پنہاں ہے۔اسکے علاوہ کوئی دوا نہیں کہ وہ بلوچ قوم کے درد کی دوا بن سکے۔

نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں لیکن بد قسمتی سے بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ویرانوں میں پھینکی جاتی ہیں یا عقوبت خانوں میں بند کرکے نذر تشدد کئے جاتے ہیں اور ہماری درد بھری حقیقت یہی پر ختم نہیں ہوتی ہماری مائیں اور بہنیں پریس کلبوں کے سامنے روز جی کر بھی مررہے ہیں۔ ریاستی درندے آئے روز فوجی آپریشنوں کے نام پر ہمارے کچے مکانوں کو جلا کر ہمیں اپنے ہی گھر میں بے گھر کررہے ہیں۔

ریاست اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ بنگال میں ظلم کی داستان کی تاریخ کو دوبارہ بلوچستان میں دہرا رہی ہے۔ ہماری بہنوں کی ریپ کررہی ہیں۔ حالیہ ہی بہت ایسے رپورٹس سامنے آئے ہیں جن میں بلوچ خواتین کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا، اذیت خانوں میں جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔آئے روز فوجی آپریشنوں میں نوجوانوں کو لاپتہ کرنا اور فیک انکاؤنٹر میں شہید کرنا روز کی معمول بن چکی ہیں اور 26 دنوں سے کوئٹہ ریڈ زون میں ہماری مائیں اور بہنیں بلوچستان اسمبلی کے سامنے دھرنے کی شکل میں بیٹھے ہیں۔اورآئے روز مررہے ہیں اپنے لاپتہ بھائیوں کی بازیابی کی خاطر(سمی 12 سالوں منتظر ہے،ذاکر مجید کی والدہ بھی بارہ سالوں سے اس امید سے بیٹھے ہوئے ہیں کہ آج نہیں کل ڈاکٹر دین اور ذاکر جان بازیاب ہوکر آئینگے) اور دھرنے کے چند میٹر کے فاصلے پر بلوچستان اسمبلی میں بیٹھے خود کو بلوچ کا نمائندہ کہنے والوں کو ہمارے ماؤں، بہنوں کے رونے کی چیخیں کیوں سنائی نہیں دیتیں؟

جو اسمبلی میں بیٹھے ہیں آیا وہ حقیقت کیوں نہیں بتاتیں کہ آپ لوگوں کے زخموں کو نمک لگانے والے ہم ہیں البتہ حقیت تو ہم جانتے ہیں لیکن آپ اپنے منہ سے کیوں نہیں کہتے ہم آپ کے خیرخواہ نہیں۔ہمیں چند پیسے دیئے جاتے ہیں آپ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے لیکن ہماری مائیں کوئٹہ میں ایک امید لیکر بیٹھے ہیں لیکن مزاحمت کی شکل میں ظالموآپ لوگوں کو علم ہونا چاہئے ظلم کی شدت جتنی تیز ہوگی نفرت اتنا ہی تیز ہوتا جائیگا اور شہید فدائی شاری کی شکل میں آپ پر وار ہوگا تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کیونکہ بلوچ کے پاس صرف دو راستے ہیں یا تو آزادی کے لیے جدوجہد کریں یا آپ کے در پر سجدہ ریز ہو کر ہمیشہ کے لئے داغ اپنے چہرے پر لئے زندہ رہے۔

وہ بلوچ جو شعور یافتہ ہے، وہ بلوچ جو قربانیوں اور جدوجہد کی داستانوں سے واقف ہے وہ آپ کے در پر کبھی سجدہ ریز نہیں ہونگے بلکہ شاری اور نوتک کی طرح قہر بن کر ٹوٹیں گے کیونکہ تاریخی حقیقت یہی ہے کہ درد کی داستان ایک مجاہد کو جنم دیتا ہے اور مجاہد موت سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا۔اور بلوچ نوجوانوں کو کہنا چاہتا ہوں جو کوئٹہ میں موجود ہیں وہ اس تاریخی جدوجہد کا حصہ بن کر ماؤں اور بہنوں کی آواز بنیں۔


٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here