بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کو اٹھائیس(28) دن ہو گئے۔ آج لواحقین کی جانب سے منو جان چوک سے گورنرہاؤس تک ریلی نکالی گئی۔
زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے کو آج اٹھائیس دن مکمل ہو گئے، لاپتہ افراد کے لواحقین نے آج شام منو جان چوک کلی ہدہ سے دھرنے کی مقام گورنر ہاؤس کے سامنے تک بہت بڑی احتجاجی ریلی نکالی، جس میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں، طلباء تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ کوئٹہ کے سیول سوسائٹی کے لوگوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔
ریلی میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت دیگر پارٹیوں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا، لواحقین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انکے لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے، انکی بس یہی مطالبہ ہے کہ انکے درد اور اذیت کو محسوس کرتے ہوئے انکے فریاد کو سنا جائے وہ اتنے دور دور سے یہاں ایک امید لیکر آئے ہیں کہ انکے پیاروں کی بازیابی ممکن ہو سکے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے جنرل سیکرٹری سمی دین بلوچ نے کہا کہ آج ایک اخباری اعلامیہ کے زریعے ہمارے علم میں آیا ہے کہ صوبائی حکومت نے بلوچ لاپتہ افراد کے حوالے سے صوبائی وزیر داخلہ کی سربراہی میں ایک پارلیمانی کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے، البتہ ہمیں، ہمارے تنظیم اور لواحقین کو اس حوالے میں کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے اور نا ہی پیش کردہ مطالبات اور مسنگ پرسنز لسٹ کے حوالے سے اب تک کوئی پیشرفت ہوئی ہے، ہمیں ان معاملات میں حکومت کی طرف سے غیر سنجیدگی نظر آ رہی ہے، گورنر ہاؤس کے سامنے لواحقین نے دھرنے کو ایک مینے ہونے والا ہے لیکن اب تک ہمارے مطالبات کو ماننے یا سننے میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے، انہوں نے مذید کہا کہ اگر اس طرح صوبائی حکومت اور حکام بالا نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور ہمیں نا سنا اور مانا گیا تو ہمارے اگلے اقدامات سخت ہوں گے ہم نے حکومت کو بہت وقت دیا ہے اور کافی صبر و تحمل سے انتظار کرتے رہے ہیں۔