انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یومِ آزادی پر تاریخی لال قلعے کی فصیل سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے آئندہ 25 برس میں یعنی آزادی کے 100 برس مکمل ہونے پر بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
نریندر مودی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس بڑے ہدف کو پانے کے لیے اپنے بہترین سال ملک کے لیے وقف کر دیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اشارتاََ حزبِ اختلاف پر تنقید بھی کی۔
انہوں نے لال قلعے سے نویں مرتبہ خطاب کرتے ہوئے پانچ عہد بھی کیے، جن میں بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے بڑے عزم کے ساتھ آگے بڑھنا، غلامانہ ذہنیت کو ترک کرنا، اپنی وراثت پر فخر کرنا، اتحاد و یکجہتی قائم رکھنا اور تمام شہریوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرانا شامل تھے۔
مودی نے بھارت کو ’مادرِ جمہوریت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے جس طرح کرونا وبا سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کی، اس کے پیشِ نظر آج دنیا اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے 2014 کے بعد سے اب تک حکومت کی مختلف کامیابیوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے اس موقعے پر دیگر طبقات کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ قبائلی عوام نے بھی اس ملک کو آزاد کرانے میں قربانیاں دی ہیں۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ وزیرِ اعظم نے خواتین اور قبائلی عوام کو اس لیے یاد کیا تاکہ آئندہ چند ماہ میں مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے لیے ووٹوں کے حصول کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ جن ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں ان میں قبائلی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنے ایک گھنٹے 23 منٹ کے خطاب میں اشاروں کنایوں میں حزبِ اختلاف پر تنقید کی اور عوام سے مبینہ بد عنوان سیاسی رہنماؤں سے ہمدردی نہ رکھنے کی اپیل کی۔
انہوں نے بد عنوانی اور اقربا پروری کو ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ بد عنوانی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ان کے بقول ایک طرف لوگوں کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں ہے اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں، جن کے لیے بدعنوانی سے کمایا ہوا مال رکھنے کی بھی جگہ نہیں ہے۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ان لوگوں سے ہمدردی کیوں رکھتے ہیں، جو بدعنوانی کے جرم میں سزا یافتہ ہیں یا جیلوں میں بند ہیں۔
مبصرین کے خیال میں ان کا یہ بیان دراصل کانگریس، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ان رہنماؤں پر حملہ ہے جن کے خلاف مرکزی تحقیقاتی ادارے جانچ کر رہے ہیں، یا جن کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔