بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا وزیر اعلیٰ وگورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں دھرنے کو 26دن ہو گئے۔
زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے کو آج 26دن مکمل ہو گئے۔
اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سیکر ٹری جنرل اور لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی دین بلوچ نے دھرنے میں ایک پریس کانفرنس کی۔
سمی دین محمد بلوچ نے پریس کانفرسن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے ہر مسئلے کاحل لاپتہ افراد مسئلے سے مشروط ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج آپ سب کو یہاں بلانے کا ایک ہی مقصد ہے کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس وقت اس خطے میں تمام مکتب فکر، تمام سیاسی جماعتوں سمیت ریاستی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ بلوچستان کے اندر سب سے اہم اور حساس مسئلہ لاپتہ افراد کا مسئلہ ہے جب تک لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہیں کیا جائے گا تب تک بلوچستان کا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا. اسی لیے ہم لاپتہ افراد کے لواحقین پچھلے 26 دنوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے کوئٹہ اس اہم مقام پر دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ انتہائی معزرت کے ساتھ اس دوران ہمیں سب سے زیادہ گلہ اور شکوہ اپنے صحافیوں سے ہے کیونکہ اس دوران صحافیوں کا کوئی خاطر خواہ رول نظر نہیں آ رہا ہے ہم اب بھی یہی امید کرتے ہی?ں کہ آپ صحافی حضرات ریاست کے چوتھے ستون میڈیا کے ذریعے ہماری آواز مذہب دنیا اور حکام بالا تک پہنچائیں گے۔
یہ دھرنا پچھلے مہینے 21 جولائی سے شروع کیا گیا جو کہ تاحال جاری ہے. اس حوالے سے ہمارے تین مطالبات تھے پہلا زیارت واقعہ پر ایک جوڈیشل انکوائری تشکیل دیا جائے، دوسرا لاپتہ افراد کے لواحقین کو یہ یقین کروائی جائے کہ ان کے پیارے اس طرح کے جعلی مقابلے مارے نہیں جائیں گے،۔تیسرا لاپتہ افراد کے بازیابی کو ممکن بنایا جا سکے۔پہلا مطالبہ زیارت واقعہ پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا لیکن ہم واضح کرتے ہیں کہ اس پر ابھی تک آگے کام نہیں ہوا ہے۔نہ ہی متاثر فیملی سے کوئی رابطہ ہوا ہے اور نہ ہی لاشوں کی ڈی این اے اور پوسٹ مارٹم وغیرہ کی بات کی گئی ہے. جو کہ ہم سمجھتے عدالت عالیہ کی، اور جوڈیشل کمیشن میں منتخب معزز جج کی غیر سنجیدگی کو واضح کرتی ہے۔
ہمارے باقی دونوں مطالبوں پر ابھی تک کوئی بھی پیش رفت نظر نہیں آ رہا، عمل درآمد اپنی جگہ، ہم آپ کے توسط سے یہ بتاتا چلیں کہ پچھلے دنوں صوبائی وزیر زمرک خان اچکزئی ان کے ساتھ ایم پی اے شکیلہ نوید دہوار بھی تھے. انہوں نے آکر ہمارے جو باتیں اور مطالبات تھے وہ لے کر چلے گئے۔اس وقت وہ تین مرتبہ ہمارے پاس آ چکے ہیں۔ان کی جانب سے ہمیں کہا گیا ہے کہ پہلے آپ لواحقین اپنا دھرنا ختم کریں تو ہم آپ کے مطالبات آگے لے جائیں گے، جب تک دھرنا ختم نہیں ہوگا تب تک ہم کچھ نہیں کہہ سکتے. لیکن لواحقین کی جانب سے ہمارا موقف یہی ہے کہ ابھی تک ہمارے مطالبات پر کوئی پیش رفت نہیں ہوا ہے لیکن آپ لواحقین سے دھرنا ختم کرنے کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں جو کہ لواحقین کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ جب تک لواحقین کو سو فیصد یقین نہیں کروائی جائے گی تب تک ہم سب بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔
جیسا کہ آپ سب کو پتہ ہے اس دوران ہم نے کوئٹہ کے مخلتف جگہوں سے ریلیاں نکال چکے ہیں، پمفلٹ بھی کر رہے ہیں اور وال چاکنگ بھی کیے ہیں تاکہ عوام الناس کے اندر مختلف طریقے سے اس مسئلے پر موبلائزیشن کیا جا سکے، اسی تسلسل کو آگے لے جاتے ہوئے 16 اگست کو کوئٹہ کے مختلف مقامات پر علامتی کیمپ لگا کر آگاہی پھیلائیں گے۔اور اسی طرح 17 اگست کو کلی ہدہ سے ایک بہت بڑی ریلی نکالی جائے گی۔
ہم آپ کی توسط سے حکام بالا اور حکومت وقت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب تک ہمارے مطالبات پر عمل در آمد نہیں کیا جائے گا تب تک ہم اپنے احتجاجوں میں مختلف طریقے سے مزید شدت لائیں گے۔اگر ہمارے کسی بھی لواحقین کو کچھ بھی ہوگیا اس کا زمہ داری ریاست اور اس کے حکمران ہونگے۔