بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا وزیر اعلیٰ وگورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں دھرنے کو پچیس دن ہو گئے جس پر لواحقین نے بلوچستان اسمبلی تک واک کیا۔
زیارت واقعے کے بعد گورنر ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جاری بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے دھرنے کو آج پچیس دن مکمل ہو گئے، مطالبات کی عدم منظوری پر دھرنا جاری رہے گا۔
دھرنے کے شرکاء نے آج بلوچستان اسمبلی چوک تک ہر امن لانگ مارچ کیا، لانگ مارچ میں لاپتہ افراد کے لواحقین اور دوسرے کارکنان نے شرکت کی، مارچ کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز، جبری گمشدہ افراد کے تصاویر اور سفید جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پہ امن، سلامتی، انصاف اور آزادی کے ساتھ مزاحمت کے نعرے درج تھے، شرکاء نے اسمبلی چوک پر کچھ دیر کھڑے ہو کر جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے نعرے لگائے اور اسکے بعد پر امن طریقے سے دھرنے کی مقام پر آکر واک کو اختتام پذیر کیا۔
دھرنے میں حسب دستور سیاسی اور سماجی کارکنان اظہارِ یکجہتی کرتے رہے، جبکہ آج بھی بارش کی بوندا باندی سارا دن اور کل رات سے جاری رہا، جس سے دھرنے کو شرکاء کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔