بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں کل بروز جمعہ 12اگست کوریلی نکلانے کا اعلان کیا ہے۔
لاپتہ افراد لواحقین کے مطابق یہ ریلی بولان میڈیکل کالج کے مین گیٹ سے شام چار (4) بجے نکالی جائے گی۔
لواحقین نے اس سلسلے میں تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں سے شرکت کی اپیل کی ہے۔
واضع رہے کہ کوئٹہ میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرناگذشتہ بائیس دنوں سے جاری ہے۔
دھرنے میں بلوچستان کے وزیر زمرک اچکزئی اور ممبر اسمبلی شکیلہ نوید دہوار نے آکر اظہارِ یکجہتی کی اور لواحقین نے ان کو اپنے لاپتہ افراد کی لسٹ بھی فراہم کر دی تھی۔

انہوں نے لواحقین کو یقین دہانی کی کہ وہ لسٹ اور مطالبات کو بلوچستان حکومت تک پیش کریں گے اور جلد از جلد ان سے رجوع کریں گے۔
دھرنے میں بلوچستان سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے لواحقین کی کثیر تعداد موجود ہیں جو انصاف کے منتظر ہیں، جن کے سادہ سے مطالبات ہیں کہ ان کو سنجیدگی سے سنا جائے اور انہیں انکے لاپتہ پیاروں کی زندگیوں کے بارے میں تسلی دی جائے۔
اس احتجاجی دھرنابائیس دنوں سے جاری ہے لیکن اب تک انکے مطالبات کی منظوری میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
قبل ازیں دھرنے پہ بیٹھے لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی دین بلوچ نے ٹویٹ کیا ہے کہ وہ پچھلے اکیس دنوں سے دھرنے پہ بیٹھے ہیں، پچھلے دو دنوں میں موبائل نیٹ ورک اور سڑکیں بند رہیں لیکن ان کا احتجاجی دھرنا بدستور جاری رہا، لیکن کسی بھی حکومتی اعلٰی حکام کی طرف سے ان کو رجوع نہیں کیا گیا، بلکہ انہوں نے آنکھیں اوجھل کیے ہوئے ہیں۔
لواحقین کے مطابق ان کا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انہیں نہ سنا جائے گا، اور یہ یقین دہانی نہ کرائی جائے گی کہ انکے پیاروں کو جعلی مقابلوں میں قتل نہیں کیا جائے گا۔