پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ چینی کے بحران سے متعلق رپورٹ میں ایک ٹیبل کے علاوہ کچھ نہیں جبکہ ان کے وزیر اعظم عمران خان سے تعلقات پہلے جیسے نہیں ہےں۔
نجی چینل ‘سماءنیوز’ کے پروگرام ‘ندیم ملک لائیو’ میں گفتگو کرتے ہوئے جہانگیر ترین نے کہا کہ ‘میں پاکستان کی 20 فیصد چینی ضرور بناتا ہوں لیکن اس کے پیچھے30 سال کی محنت ہے، ای سی سی کا اکتوبر 2018 کا اجلاس اسد عمر کی زیر صدارت ہوا جس میں 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کی منظوری دی گئی، اسد عمر سے چینی کی برآمد پر کوئی بات نہیں کی، میرا شوگر مارکیٹ میں 20 فیصد شیئر اور 6 ملیں ضرور ہیں لیکن 74 اور ملیں بھی ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ ‘چینی کا کوئی بحران نہیں تھا، سیزن کے آغاز میں 10 لاکھ ٹن کا اسٹاک صرف پنجاب میں موجود تھا جبکہ ڈھائی تین لاکھ کے ذخائر دوسرے صوبوں میں تھے، برآمد کرنے سے پاکستان میں چینی کا بحران نہیں آیا۔’
چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘رپورٹ تیار کرنے والوں کو مارکیٹ کے حوالے سے کچھ علم نہیں ہے، اس رپورٹ میں ایک ٹیبل کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے، حکومت پالیسی بناتی ہے جس پر عمل کرکے مل مالکان سبسڈی حاصل کرتے ہیں جبکہ سبسڈی منافع نہیں ہوتی۔’
جہانگیر ترین نے کہا کہ ‘یہ ابتدائی رپورٹ ہے جس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سالوں میں چینی کی برآمد پر سبسڈی دی گئی، میں نے جو ک±ل سبسڈی لی وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ڈھائی ارب تھی اور اپنی پارٹی کی حکومت میں 56 کروڑ ہے، میں نے 5 سالوں میں 23 ارب روپے ٹیکس دیا ہے اس حساب سے یہ سبسڈی کچھ نہیں ہے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘وزارت صنعت نے خود لاگت کا حساب لگایا اور بتایا کہ اگر گنے کی قیمت 180 روپے من ہوگی تو ٹیکس کے بعد چینی کی پیداواری قیمت 63 روپے فی کلو ہوگی، پہلے میرے علاوہ دیگر شوگر ملز مالکان نے 120 روپے فی من میں گنا خریدا۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے متعلق لوگ بہت غلط باتیں پھیلاتے ہیں، مییں خود اپنی ضرورت کا صرف 8 فیصد گنا کاشت کرتا ہوں، باقی 92 فیصد خریدتا ہوں۔’
پارٹی میں مخالفت سے متعلق جہانگیر ترین نے کہا کہ ‘2013 کے انتخابات میں ب±ری طرح شکست کے بعد میں نے عمران خان سے بات کی اور پنجاب کے ڈیٹا کو سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ ہم نے غلط امیدواروں کو کھڑا کیا، پنجاب میں سیاسی خاندان ہے اور اگر ان کو امیدوار نہیں بنایا گیا تو آپ وزیر اعظم نہیں بنیں گے، اس معاملے پر پارٹی میں میری مخالفت شروع ہوئی اور سیاسی لوگوں کو الیکشن لڑوانے پر پارٹی میں لوگ مجھ سے ناراض ہوئے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘اسد عمر سے خزانہ کی وزارت میری وجہ سے واپس نہیں لی گئی، عمران خان جس طرح کے فیصلے چاہتے تھے اسد عمر وہ فیصلے نہیں کر رہے تھے، کابینہ میں کون ہوگا کون نہیں یہ وزیر اعظم کی صوابدید ہے، میں ابھی بھی ا±ن کے ساتھ کھڑا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔’
پی ٹی آئی رہنما نے انکشاف کیا کہ ‘عمران خان سے جیسے تعلقات پہلے تھے اب ویسے نہیں ہیں، ان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سے میرے 6 ماہ قبل بیوروکریسی کے معاملے پر اختلافات شروع ہوگئے تھے، تاہم عمران خان سے تعلقات جلد بہتر ہوجائیں گے۔’
پارٹی میں اندرونی اختلافات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ‘اصل مسئلہ عملدرآمد کا ہے، نہ جانے کیوں پارٹی میں اتحاد اور یکجہتی نہیں ہے، ضروری ہے کہ ہم مل کر اور انفرادی کے بجائے ٹیم کے لیے کھیلیں۔’