بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں گورنر بلوچستان اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں جبری بلوچ لاپتہ افراداورسانحہ زیارت میں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین کادھرنے پندرہ دن ہوگئے۔
دھرنے کی مقام پہ کل ایک سیمینار بھی منعقد کیا گیا تھا، جس کا عنوان تھا ” جبری گمشدگی کا مسئلہ آئین و قانون کے تناظر میں ”سیمینار کو ایڈوکیٹ عمران بلوچ نے موڈریٹ کیا جبکہ سپیکرز میں، بلوچ سیاسی رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی، ایچ آر سی پی کوئٹہ کے کے آرگنائزر ایڈوکیٹ حبیب طاہر، پروفیسر منظور بلوچ، ماما قدیر بلوچ اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
دھرنے میں کل مچھ بولان سے جبری لاپتہ نعمت اللہ کے لواحقین نے شرکت کی جو سات سالوں سے جبری لاپتہ ہیں، لواحقین نے نعمت اللہ کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی دھرنے کو دو ہفتے مکمل ہونے کے باوجود آج تک ریاستی ادارے اور اعلیٰ زمہ داران کی طرف سے غیر سنجیدگی اور مطالبات کی منظوری میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ دیکھنے کو آ رہا ہے، جبکہ دھرنے پہ بیٹھے بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہمارا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ملک کے مقتدرہ عسکری ادارے کا سربراہ آکر ہمیں نا سنیں گے۔وہ آکر ہمیں یقین دہانی کرائیں کہ ہمارے پیاروں کو جعلی مقابلوں میں قتل نہیں کیا جائے گا اور ہمارے لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے گا، ہمارے شروع دن سے یہی مطالبات رہے ہیں، ہم اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے اور ساتھ ساتھ احتجاج کے تمام تر زرائع بروے کار لائیں گے۔
وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کے جنرل سیکرٹری سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہم بلوچستان اور خاص طور پر کوئٹہ اور گردونواح کے علاقوں میں ان تمام فیملیز کو جنکے پیارے لاپتہ ہیں ان کو اور تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کو زیادہ سے زیادہ اس دھرنے میں شرکت کریں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اس پر امن جدوجہد کا حصہ بنیں۔
ان فیملیز کو سالوں سے جبری لاپتہ اپنے پیاروں کی زندگیوں کے بارے شدید خدشات لاحق ہیں، زیارت سانحے کے بعد یہ خدشات اور خطرات نے شدت اختیار کیا ہوا ہے اور فیملیز اپنے گھر نہیں بیٹھ سکتے۔