کوئٹہ: گورنر ہاؤس کے سامنے بلوچ لاپتہ افراد کا دھرنا بارہویں دن میں داخل

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے بلوچ جبری لاپتہ افراد کا دھرنا آج بارہویں دن سے جاری ہے۔

دھرنے میں آج کوئٹہ سے جبری لاپتہ گل محمد مری کے لواحقین نے شرکت کی۔

حکومتی نمائندے کی طرف سے کل تمام جبری لاپتہ افرادکے لواحقین سے انکے لاپتہ افراد کے متعلق معلومات لیے گئے لیکن اب تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اب تک کسی حکومتی نمائندے نے ان سے ملاقات کیا ہے۔

بلوچ مائیں اور بہنیں بے یار ومددگار انصاف کے حصول کیلئے منتظر بیٹھی ہیں۔

دھرنے میں گذشتہ دنوں کمشنر کوئٹہ اور کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے بھیجے گئے وفد کی نے دھرنا شرکا سے ملاقات کی اور دھرنے کو ختم کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوگیا۔

بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے مطابق وفد نے ان پر یہی زور دیا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کی نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد دھرنے کو ختم ہونا چاہیے، جبکہ انہوں نے کہا کہ ہمارا دھرنا اب اس وقت ختم ہوگا جب ملک کے مقتدرہ عسکری ادارے کا سربراہ آکر ہمیں سنیں اور یقین دہانی کرائیں کہ ہمارے پیاروں کو جعلی مقابلوں میں قتل نہیں کیا جائے گا اور ہمارے لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے گا، کیوں کہ ہمارے شروع دن سے یہی دن مطالبات رہے ہیں، ہم اپنے جائز مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھیں گے اور ساتھ ساتھ احتجاج کے تمام تر زرائع بروے کار لائیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment