بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں جعلی مقابلے میں جبری لاپتہ افراد کی ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاوئس کیسامنے دھرنے کا آج نویں دن ہے۔
دھرنا مظاہرین نے آج شام پانچ بجے پیدل مارچ کا اعلان کیا ہے۔
دھرنا مظاہرین نے تمام طبقہ فکر کے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ لواحقین کے ساتھ مارچ کا حصہ بنیں اور یکجہتی کا اظہار کریں اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے جدوجہد میں شرکت کریں۔
دھرنے میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور اتحادی تنظیموں کے کارکنان سمیت جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کی کثیر تعداد شریک ہیں۔
گزشتہ دنوں زیارت میں پاکستانی فورسز نے جعلی آپریشن کے نام پر پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے میں شہید کرکے انکی لاشیں پھینکے تھے، جنکے لواحقین انکی بازیابی کیلئے مسلسل احتجاج کرتے آ رہے تھے، اسکے باوجود ان کو شہید کرکے ان کی وابستگی کسی مسلح تنظیم سے ظاہر کی جو ریاستی بوکھلاہٹ سمجھا جاتا ہے، ریاستی اداروں اور فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ افراد کے فیک انکاؤنٹر میں ماورائے قانون قتل کے خلاف اور جبری لاپتہ افراد کے زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر پچھلے سات دنوں سے بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین دوسرے تنظیموں کے کارکنان گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے احتجاجی دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔