بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں سانحہ زیارت اور جبری گمشدگیوں کیخلاف بلوچ لاپتہ افراد دھرنامظاہرین نے ایک پریس کانفرنس میں زیارت واقعہ پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، تمام لا پتہ افراد کی با حفاظت رہائی اور جعلی مقابلوں کے خاتمے کی تین مطالبات پیش کرتے ہوئے حکومت کو 3دن کی الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ تین جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو منگل سے بلوچستان بھر میں احتجاجی سلسلوں کا آغاز کیا جائے گا اور حالات کی خرابی کی تمام ذمہ داریاں سیکورٹی اداروں اور حکومت بلوچستان پر عائد ہونگے۔
جبری گمشدگی کے شکار اورزیارت سانحہ میں مارے جانے والے افراد کی لواحقین کا دھرنا گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کیسامنے آج تیسرے روز بھی جاری ہے۔
دھرنے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ رواں ماہ 14 اور 15 جولائی کے درمیان زیارت کے مقام پر سیکورٹی فورسز کے جانب سے مقابلے کا دعوی کرتے ہوئے 9 افرادکو مارنے کا اعلامیہ جاری کیا گیا، جب مارے گئے افراد کی لاشیں سول ہسپتال لائی گئیں اور ان کے تصویر وائرل ہوئے تو آہستہ آہستہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو علم ہوا کہ اس آپریشن میں جن افراد کی لاشیں ملی ہیں یہ پہلے سے ریاستی اداروں کے زیر حراست میں تھے۔
نصر اللہ بلوچ نے کہا کہ جب لا پتہ افراد کے خاندانوں نے اپنے اپنے پیاروں کی تلاش شروع کی تو پہلے مرحلے میں 5 افراد کی شناخت ہوئی جن میں انجینئر ظہیر بلوچ، ڈاکٹر مختیار بلوچ،شہراد بلوچ، شمس ساتکزئی اور سالم کریم شامل تھے۔ان کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی شناخت کرتے ہوئے ان کی جبری گمشدگی کے ثبوت پیش کیے۔ان میں سے ظہیر اور شہزاد کے لواحقین گزشتہ کئی مہینوں سے اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کر رہے تھے۔ جبکہ اس کے بعد مزید دوافراد کی شناخت جمعہ خان مری اور شاہ بخش مری کے ناموں سے ہوئی ہے جنہیں مختلف اوقات میں جبری طور پر اٹھایاگیا تھا جس سے یہ بات عیاں ہوئی کہ زیارت کے مقام پر ایک جعلی مقابلے کا دعویٰ کرتے ہوئے لاپتہ افرادکو مار کران کی لاشیں پھینکی گئی ہیں۔
اس واقعے سے ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندان اس اذیت میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ کہیں ان کے پیاروں کو بھی ایسے شہید نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ لاپتہ افراد سیکورٹی فورسز کے زیر حراست میں ہیں اور ان کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل متعدد دفعہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جعلی مقابلے میں لاپتہ بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی گئی ہیں۔ اس حالیہ غیر قانونی، غیر آئینی اور انسانیت سوز واقعے کے خلاف بلوچ سیاسی جماعتوں اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے احتجاجی دھرنا دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے شدید جبر وتشد د کا استعمال کیا گیا مگر ان مظالم کے باوجود یہ دھرنا وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس کے سامنے جاری ہے۔
نصر اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمارے 3 بنیادی مطالبات ہیں جن میں زیارت واقعہ پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل، تمام لا پتہ افراد کی با حفاظت رہائی اور لاپتہ افراد کو اس بات کی یقین دہانی کہ پھر دوبارہ بھی کسی بھی زیر حراست شخص کو جعلی مقابلوں میں نشانہ نہیں بنایا جائے گا، شامل ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ اب تک بلوچ عوام کی جانب سے شدید احتجاج اور رومل کے باوجود زیارت میں انسانیت سوز واقعہ پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے جبکہ وزیر داخلہ ضیا لانگوکے اس پر یس کا نفرنس کی شدید الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے جن میں وہ لا پتہ افرادکودہشتگر دقراردینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
افسوس کا مقام ہے کہ گزشتہ 3 دنوں سے گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج جاری ہے اور اب تک کسی بھی حکومتی وفد نے سنجیدہ مذاکرات کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس پریس کا نفرنس کی توسط سے بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم اور جبر کے خلاف بلوچستان بھر میں اظہار ہمدردی کیلئے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کریں جبکہ حکومت کو منگل تک کا وقت دیتے ہیں اگر انہوں نے دھرنے کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے اوراپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی تو منگل سے بلوچستان بھر میں احتجاجی سلسلوں کا آغاز کیا جائے گا اور حالات کی خرابی کی تمام ذمہ داریاں سیکورٹی اداروں اور حکومت بلوچستان پر عائد ہونگے۔
اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئر مین ماما قدیر بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد لواحقین و بچے بھی موجودتھے۔