سوڈان میں قبائلی جھڑپیں 33 افراد ہلاک، 108 زخمی،نقل مکانی شروع

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

جنوب مشرقی سوڈان میں بلیو نیل ریاست میں قبائل کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے، جس میں اب تک کم از کم 33 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لڑائی کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں کی نقل مکانی اور پولیس سے مدد مانگنے کی اطلاعات ہیں۔

ہفتے کے روز جھڑپیں بلیو نیل کے مشرقی کنارے پر رصیرص کے علاقے میں ہوئیں۔ اس علاقے کو ایک پل کے ذریعے ریاست کے دارالحکومت دمازین سے جوڑا گیا۔

وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق کم از کم 108 افراد زخمی بھی ہوئے۔

البرتی اور ہوسا قبائل کے درمیان زمین کے تنازع پر پیر کے روز شروع ہونے والے تشدد کے بعد سے اب تک سولہ دکانوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔

الرصیرص کے مقامی اہلکار عادل العقار نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے ہمیں اضافی فورسز کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قبائل کے دانش مند افراد پر زور دیا کہ وہ لوگوں کو پرسکون کرنے کے لیے ان سے بات کریں۔ شہریوں نے پولیس اسٹیشن کا سہارا لیا ہے۔ پولیس انہیں ہرممکن تحفظ فراہم کرے گی۔

العقار نے مزید کہا کہ ہفتے کی صبح جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا لیکن ”اب تک ہلاک ہونے والوں کی گنتی نہیں ہو سکی ہے۔

الروصیرص اسپتال کے ایک طبی اہلکار نے ہفتے کے روز خبردار کیا کہ ”فرسٹ ایڈ کٹس ختم ہو رہی ہیں ”۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ریاست کی سکیورٹی کمیٹی نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب ایک بیان میں تصدیق کی کہ یہ جھڑپیں ریاست بلیو نیل کے قیصان، الروصیرص بکوری، ام درفا اور قنیص کے علاقوں میں برتی اور ہوسا قبائل کے درمیان ہوئیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاست میں سکیورٹی حکام نے میں مقامی وقت کے مطابق 18:00 سے 06:00 تک کرفیو نافذ کر دیا۔

بلیو نیل [نیل الارزق] کے گورنر احمد العمدہ نے بھی جمعہ ایک ماہ کے لیے اجتماعات اور جلوسوں پر پابندی کا فیصلہ جاری کیا ہے۔

ہفتے کی شام گورنر نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ قیصان میں صورتحال بہتر ہوئی ہے، لیکن روصیرص میں تصادم جاری ہے۔

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment