بلوچستان کے علاقے بارکھان میں لاپتہ ڈاکٹر جمیل بلوچ کی بازیابی کیلئے عید کے تیسرے روز احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مظاہرین نے اسپتال چوک سے بارکھان پریس کلب تک ریلی نکالی۔
ریلی میں ڈاکٹر جمیل بلوچ کے لواحقین کے علاوہ علاقہ مکین، سول سوسائٹی اوربارکھان ویلفیئر سوسائٹی کے ارکان شریک تھے۔
ریلی کے شرکاہ نے بلوچستان سمیت دیگر شہروں سے بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی و بلوچ طلباء کو تعلیمی اداروں میں ہراساں کرنے کی مذمت کی۔ شرکاء نے بلوچستان حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ڈاکٹر جمیل کھیتران و دیگر لاپتہ افراد کی فوریبازیابی کا مطالبہ کیا۔
ریلی کے شرکاہ کا کہنا تھا کہ آئے روز بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ریاستی ادارے عوام کو تحفظ دینے کے بجائے جبری لاپتہ کررہے ہیں عوام سیکورٹی اداروں کو دیکھ کر تحفظ محسوس کرنے کی بجائے خوفزدہ ہوجاتی ہیں سیکورٹی کینام پر بلوچستان میں اغواء کار تعینات کئے گئے ہیں۔

مظاہرے میں لاپتہ ڈاکٹر جمیل بلوچ کھیتران کی بیٹی مہرناز بھی شامل تھی۔
مہرناز نے بتایا کہ انکے والد کے گمشدگی کو اب پانچ ماہ مکمل ہونے کو ہے اور وہ بازیاب نہیں ہوئے۔
مہرناز نے بتایا کہ وہ ان پانچ ماہ کے دوران اپنے والد کی باحفاظت بازیابی کے لئے کئی احتجاج ریکارڈ کراچکی ہے، انصاف کا مطالبہ کیا لیکن میرے والد کوبازیاب نہیں کیا جارہاہے۔
مہرناز جو ابھی بہت چھوٹی ہے اور اپنے والد کی بازیابی کے لئے منعقد احتجاجی مظاہروں میں شریک رہتی ہے، نے بتایا کہ طویل عرصہ سے وہ اپنے والد کا انتظار کررہی ہے۔مہرناز نے اپنے والد کے باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
مظاہرے سے گفتگو میں مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں طویل جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں ہزاروں نوجوانوں کواپنے پیاروں سے چھینا جاچکا ہے ریاستی ادارے بلوچستان میں جاری غیر انسانی عمل کو روک کر لاپتہ افراد کو بازیاب کریں ریاستی پالیسیوں سے مزید نفرتیں جنم لے رہی ہے حالات کو سدھارنے کے بجائے مزید بگاڑ پیدا کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر جمیل بلوچ علاقے میں سماجی مسائل پر ایک توانا آواز تھا جمیل بلوچ نے ہمیشہ یہاں کے مکینوں کی حق کیبات کی اور آج انہیں اسی جرم کے پاداش میں پابند سلاسل رکھا گیا ہے۔
مظاہرین نے ڈاکٹر جمیل بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔
مقررین کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت اور انسانی حقوق کے ادارے بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں کے تسلسل کو روک کر لاپتہ افراد کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔
یاد رہے جمیل بلوچ جو پیشے سے ڈاکٹر ہے، کو رواں سال 23 فروری کو بلوچستان کے ضلع بارکھان سے حراست بعد لاپتہ کیا گیاتھا۔