پاکستان کے وفاقی وزارت اطلاعات نے ڈمی پیپرز کی شناخت ہونے کے بعد 6000 سے زیادہ پیپرز کو ڈی نوٹیفائی کردیا۔
علاوہ ازیں آفس پریس رجسٹرار نے 15 اپریل تک اخبار چھاپنے والے تمام چھاپہ خانوں کو مجوزہ قوائد سے پر عملدرآمد کی ڈیڈی لائن دے دی۔
وزارت کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ پوری میڈیا انڈسٹری کو ہموار کرنے اور اس کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کا عمل گزشتہ حکومت مسلم لیگ (ن) نے شروع کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ پوری کارروائی کا ہدف کرپشن اور ابہاموں کا ختم کرنا ہے، بڑی تعداد میں وزارت کے ملازمین بھی اس کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں اعتراف کیا تھا کہ ان کی وزارت کے افسران ڈمی پیپر کو اشتہارات دینے میں ملوث ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے پاس ملک بھر میں تقریباً 4 ہزار 200 روزنامہ، ہفت روزہ اخبارات کا اندراج ہے، جن کی مجموعی اشاعت 2 کروڑ کے قریب ہے جبکہ تمام علاقائی روزناموں اور ہفت روزہ کی گنتی کی جائے تو کل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔
دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد پریس رجسٹرار نے ملک میں چلنے والے پرنٹنگ پریس کی تازہ فہرست مرتب کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزارت اطلاعات کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ڈمی اخبارات کی دو اقسام ہیں، پہلی قسم کے تحت اخبار کا نام حاصل کرنے کے بعد سرمایہ داروں سے بات چیت کرکے سرمایہ حاصل کیا جاتا ہے لیکن وہ باقاعدہ طباعت نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈمی پیپرز کی دوسری قسم میں صرف اشتہارات ملنے پر ان کی مخص تعداد میں اشاعت ہوتی ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ اس طرح کی اشاعتوں کو چیک کرنے کا بہترین طریقہ ان کے پرنٹنگ پریس کے معاملات ہموار کیے جائیں اور حالیہ اقدام سے یہ ظاہر ہوا کہ کچھ پریس بڑی تعداد میں پینٹنگ کرتے ہیں لیکن ان میں اتنی صلاحیت بھی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ پریس رجسٹرار نے پریس، نیوز پیر، نیوز ایجنسی اینڈ بک رجسٹریشن آرڈیننس 2002 کے تحت پرنٹنگ پریس سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے تمام ڈپٹی کمشنروں کو مراسلہ لکھ دیا ہے۔
اس ضمن میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) نے کہا کہ سرکاری اشتہاروں کی بنیاد پر ڈمی اخبارات کا خاتمہ پی ایف یو جے کا درینہ مطالبہ تھا۔
پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ لیکن ہماری پریشانی یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس کو ہموار کرنے کے اقدام میں کوئی سیاسی مقصد نہیں ہونا چاہیے یا میڈیا کی آزادی کو دبانے کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔