بلوچستان: ایک اور روڈ حادثے میں 4 افرادہلاک،مہینے میں 60سے زائد ہلاکتیں ریکارڈ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان کے علاقے ڈھاڈر کے قریب کوئٹہ سکھر شاہراہ پر پکنک پوائنٹ گوگرت میں ٹریفک حادثے میں چار افرادہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے۔

لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا۔

ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں ایک مہینے کے دوران مختلف ٹریفک حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت 60سے زائد افرادہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

آٹھ جون کو ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے اختر زئی ادوالہ کے مقام پر مسافر وین موڑ کاٹتے ہوئے ڈرائیور سے بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جا گری تھی جس کے نتیجے میں وین میں سوار 22افراد جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا تھا، اسی طرح 8جون کو چمن کے علاقے شیلاباغ بائی پاس کے ٹریفک حادثے میں قبائلی رہنماء حاجی اعظم کاکوزئی کا بیٹا شیر علی ہلاک جبکہ ایمل خان زخمی ہوگیا تھا۔اسی روز پرانہ چمن کے قریب سڑک حادثے میں کوئٹہ کے مقامی روزنامہ کے ایڈیٹر طارق گشگوری، سینئر صحافی جعفر خان ودان، اور مقصود خالد زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ 13جون کو پشین کے علاقے یارو کے قریب حیدرزئی کے مقام پر 2گاڑیوں میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 2افراد ہلاک جبکہ9کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

چودہ جون کو عالموچوک ائیرپورٹ روڈ پر سڑک حادثے میں 2افراد ہلاک ہوگئے۔ 18جون کو قلات کے علاقے ٹول پلازہ مرجان کے علاقے میں گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت 14افراد زخمی ہوگئے۔18جون کو ہی خضدار کی تحصیل وڈھ میں قومی شاہراہ پر کوچ اور ویگن میں تصادم کے نتیجے میں 3افراد ہلاک جبکہ 6زخمی ہوگئے۔ 19جون کو لورالائی میں کوئٹہ روڈ سرکی جنگل کے مقام پر 2گاڑیوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں خاتون اور 3سالہ بچے سمیت 5افراد ہلاک جبکہ 5زخمی ہوئے۔

چھبیس جون کو نصیرآباد کے علاقے چھتر میں باراتیوں کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 14افراد زخمی ہوگئے تھے۔ 30جون کو ڈھاڈر کے علاقے مشکاف موٹر پر ٹریفک حادثے میں 4افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

علاوہ ازیں 2جولائی بروز ہفتہ کو بلوچستان کے دور دراز علاقے آواران میں باراتیوں کی گاڑی الٹنے سے 2خواتین سمیت 3افرادہلاک اور26زخمی ہوگئے تھے۔

تین جولائی بروز اتوار بلوچستان کے سرحدی علاقے شیرانی میں دانہ سر کے مقام پر مسافر کوچ گہری کھانے میں گرنے سے 20افراد ہلاک جبکہ درجن سے زائد زخمی ہوگئے۔

قبل ازیں ہفتے کو ہی کراچی سے سوراب جانے والی گاڑی تیز رفتاری کے باعث سمان کے ایریا میں بے قابو ہو کر الٹ گئی جس کے نتیجے میں ایل ایس ون کیسکو سوراب میر سعید احمد بنگلزئی ہلاک جبکہ 2افراد زخمی ہوگئے تھے۔

بلوچستان میں سڑک حادثات میں سالانہ کی بنیاد پر 8ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جس کی اہم وجہ یک رویہ سڑکیں اور تیز رفتار ٹریفک ہے۔بلوچستان بھر میں کئی بھی دو رویہ شاہراہ موجود ہے اور نہ ہی ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کروانے کے لئے موثر نظام موجود ہے جس کی وجہ سے آئے روز سڑک حادثات میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment