یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے روس نے نئے فوجیوں کی بھرتی شروع کر دی ہے۔
بہت سی روسی ماؤں کی طرف سے ان کے بچوں کی ملکی فوج میں جبری بھرتی کے خلاف شکایات سامنے آئی ہیں۔
مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونباس کی روس نواز لیکن خود ساختہ جمہوریاؤں ڈونیٹسک اور لوہانسک سے بھرتی کیے گئے مردوں کو بھی روسی فوج کی طرف سے جنگی علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ روسی عسکری حکام فوجی بھرتی کے عمومی مراکز کے ذریعے وسیع پیمانے پر اگرچہ نئے فوجی بھرتی نہیں کر رہے تاہم ماسکو کو موجودہ جنگ میں نئے فوجیوں کی بہت ضرورت ہے۔
مختلف ذرائع کے مطابق لازمی فوجی سروس کے طریقہ کار کے تحت بھی روسی شہریوں کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ آلیکسانڈر نامی ایک شہری، جو سلامتی وجوہات کی بنا پر اپنا اصل نام نہیں بتانا چاہتے، ایک تجربہ کار فوجی ہیں جو کئی برسوں سے روس میں نہیں رہتے۔ اس کے پاسپورٹ پر مگر ابھی تک ان کا روس میں رہائشی پتہ درج ہے۔ اسی پتے پر ان کے والدین بھی ابھی تک رہائش پذیر ہیں۔ فوجی بھرتی کے ایک مقامی دفتر کی جانب سے حال ہی میں آلیکسانڈر کو اسی پتے پر عسکری طلبی کا ایک پروانہ بھیجا گیا۔ آلیکسانڈر کے مطابق، ”فوجی بھرتی کے دفتر میں میرا نام گزشتہ بیس برسوں سے درج ہے، جب میں فوج میں ایک سپاہی تھا۔ میں ایک تجربہ کار فوجی تو ہوں لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ طلبی کس سلسلے میں تھی۔ شاید دوبارہ غیر اعلانیہ بھرتی کے لیے۔“
آلیکسانڈر روس کی یوکرین کے خلاف عسکری جارحیت کے مخالف ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ اب بھی روس میں ہوتے اور تب انہیں فوجی طلبی کا کوئی خط ملتا، تو وہ جلد از جلد روس چھوڑنے کی کوشش کرتے۔
ایسا لگتا ہے کہ ماضی میں فوجی خدمات انجام دینے اور جنگی تجربہ رکھنے والے زیادہ سے زیادہ روسی شہریوں کو ایسے فوجی بلاوے موصول ہو رہے ہیں۔ یہ معاملہ روسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘وی کے‘ پر بھی بحث کا اہم موضوع ہے، جہاں لوگ اس بارے میں مشورے کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ایسے ‘سرکاری بلاووں‘ کا مناسب ترین جواب کیسے دیا جائے۔
روسی شہر ارخنگ لزک میں خواتین کے ایک گروپ کی ایک رکن آنا نے لکھا، ”میرا بیٹا 14 جون کو اپنے دفتر گیا تھا۔ انہوں نے اس کا شناختی کارڈ دیکھا اور پوچھا کہ آیا وہ فوجی بھرتی کا معاہدہ کر کے فوج میں شامل چاہتا تھا۔ لیکن پھر انہوں نے اسے جانے دیا تھا۔“
روسی شہری آلیکسانڈر گورباچوف ایک وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں۔ وہ لازمی فوجی خدمات کے لیے بھرتی کیے جانے والوں کی قانونی مشاورت کرتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین پر حملے کے آغاز سے لے کر اب تک اور خاص طور پر گزشتہ ماہ کے دوران باقاعدہ فوجیوں کی بھرتی کی مہم میں تیزی کا مشاہدہ کیا ہے۔ ایسی بھرتیاں محدود مدت کے لیے کی جاتی ہیں۔ آلیکسانڈر گورباچوف نے کہا، ”اس سے قبل لازمی بھرتی اور رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دینے والے مردوں کو ہی فوجی ملازمت کے باقاعدہ معاہدوں کی پیشکش کی جاتی تھی۔ تب آپ کے پاس بڑے پیمانے پر کالیں اور سرکاری بلاوے نہیں آتے تھے۔“
روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں فوجیوں کی ماؤں کی تنظیم ‘سولجرز مدرز‘ کی سربراہ اوکسانا پرمانووا کے مطابق، ”اب لگتا ایسے ہے کہ محدود مدت کے فوجی معاہدوں کے ساتھ لازمی بھرتیوں کے لیے تلاش تیز ہو چکی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ ملٹری ریکروٹمنٹ کرنے والوں نے اب غیر معمولی طریقے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔
روس میں 18 سے 27 سال تک کی عمر کے مرد شہری قانوناً ایک سال تک لازمی فوجی خدمات انجام دینے کے پابند ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان نوجوانوں کو ہی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، جن کی صحت ملٹری سروس کی اجازت نہ دیتی ہو۔ طلبا اپنے عرصہ تعلیم کے دوران اس لازمی فوجی سروس کو مؤخر کر سکتے ہیں۔ ماضی میں اکثر لازمی بھرتی کے طریقہ کار کی خلاف ورزی بھی ہوتی رہی۔
فوجی بھرتی کی کوششوں کے تحت بہت سے اشتہارات بھی دیے گئے۔ ان اشتہارات کے مطابق عسکری بھرتی کے معاہدوں پر دستخط کرنے والوں کو فی کس دو لاکھ روبل (3500 ڈالر) ماہانہ تنخواہ ملے گی۔ یہ رقم ایک عام روسی شہری کی اوسط ماہانہ تنخواہ کے پانچ گنا سے بھی زیادہ ہے۔ آلیکسانڈر گورباچوف کے مطابق امن کے دور میں روسی فوجیوں کی اوسط ماہانہ تنخواہ 25 ہزار روبل تھی۔
فوجی بھرتی کے لیے شائع شدہ اشتہارات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اتنی زیادہ تنخواہ صرف جنگی علاقوں میں تعیناتی کی صورت میں ہو گی یا بالعموم۔ ایک اشتہار کے آخر میں لکھا گیا تھا، ”خصوصی فوجی آپریشنکے دوران چار ماہ یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے معاہدہ کیا جا سکتا ہے۔“ روس میں ‘خصوصی فوجی آپریشن‘ ایک ایسی اصطلاح ہے، جو یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔