پاکستان کے زیر قبضہ گلگت بلتستان میں سانحہ13 اکتوبر 2008 کے اسیران کی رہائی کیلئے عوامی حلقوں کا دھرنا 4 دنوں سے جاری ہے۔
دھرنا مظاہرین کا موقف ہے کہ اگر اسیران کو رہا نہیں کیا گیا تو پورے گلگت بلتستان میں دھرنے دیئے جائیں گے۔
گلگت بلتستان میں 13 اکتوبر 2008 کو ایک طالب علم کو پا کستانی رینجر نے گرفتار کیاجس پراس کے ساتھیوں نے ان کی بازیابی کے لیے احتجاج کیا۔
احتجاجی ریلی ہائی سکول نمبر 1 پر پہنچتا ہے تو رینجرز اہلکاروں کا اسکول کے چھوٹے چھوٹے بچوں پر تشدد کی وجہ سے کئی بچے بے ہوش ہو گئے۔
اس واقعہ میں پولیس اور عوام طلبا کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں اتنے میں نزدیک گلی سے نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوتا ہے پھر رینجرز اہلکاروں کی اندھادھند فائرنگ سے 4خواتین سمیت 8 افراد شہید ہوجاتے ہیں اور ایک دو رینجرز اہلکار بھی پروٹسٹ میں ہلاک ہوتے ہیں۔
اس سانحہ کے بعد گلگت میں کرفیو نافذ کرکے شک کی بنیاد پر 14 بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کیا جاتا ہے ان میں ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو اس روز گلگت میں ہی موجود نہیں تھے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے ان بے گناہ طلباکو راولپنڈی منتقل کرکے بد ترین تشدد اور فوجی عدالتوں سے سزائیں دلوائیں گئی۔
علاقے کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ گلگت بلتستان کا کوئی بھی کیس قانونی طور پر پاکستان کے کسی عدالت میں شفٹ نہیں ہوسکتا یہ بین الاقوامی قانون اور یو این سی آئی پی قراردادوں کے سراسر منافی ہے۔
اس سانحہ کو چودہ سال گزرنے کے بعد بھی ان کی اپیلیں سننے سے روکا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ پچھلے سال اسیران کے لواحقین کے ساتھسیکورٹی اداروں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ دو ہفتے کے اندر اسیران کو باعزت طریقے سے رہا کریں گے لیکن ان کا وعدہ صرف وعدہ رہا، ان اسیران کی رہائی کے لیے پچھلے چار روز سے گلگت میں دھرنا جاری ہے۔
دھرنا مظاہرین کا کہنا ہے کہ اب ہم کسی کے بھی بھلاوے میں نہیں آئیں گے جب تک اسیران کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک دھرنہ جاری رہے گا۔