بھارت: ادے پور میں ہندو درزی کے قتل پر صورتِ حال کشیدہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بھارت کی مشرقی ریاست راجستھان کے شہر اُدے پور میں منگل کی شام کو مبینہ متنازع سوشل میڈیا پوسٹ پر دو مسلمانوں کے ہاتھوں ایک ہندو درزی کے قتل کے بعد صورتِ حال کشیدہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق کنہیا لال نامی شخص سوشل میڈیا پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی معطل رہنما نپور شرما کی حمایت میں مواد پوسٹ کر رہا تھا، جس پر اسے جان سے مارنے کی دھمکی ملی تھی۔

متنازع سوشل میڈیا پوسٹ کنہیا لال کے خلاف پولیس میں ایک شکایت بھی درج کی گئی تھی جس پر پولیس نے اسے گرفتار کیا تھا البتہ اگلے روز اسے ضمانت مل گئی تھی۔ اس نے پولیس سے تحفظ کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق محمد غوث اور محمد ریاض نامی دو افراد اپنے کپڑے سلوانے کے بہانے اس کی دکان میں داخل ہوئے اور پھر اس پر تیز دھاردار خنجر سے حملہ کر دیا۔ خنجر کے وار کے سبب کنہیا لال کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس پر 26 مرتبہ خنجر سے وار کیے گئے جب کہ زیادہ خون بہنے کے سبب اس کی موت ہوئی۔

حملہ آور محمد غوث اور محمد ریاض نے اس واقعے کی ویڈیو بھی بنائی تھی جس کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا گیا بعد ازاں یہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔ ویڈیو میں حملہ آور مذہبی نعرے بھی لگا رہے ہیں۔

اس واقعے کے فوری بعد ہندو تنظیموں کی جانب سے شہر میں احتجاج کیا گیا۔ بعض مقامات پر مظاہرین نے آگ لگا کر شاہراہوں کو بھی بند کیا۔ پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی تھیں۔ واقعے کے دو گھنٹے بعد دونوں حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد اس علاقے میں کشیدگی ہے۔ احتجاج سے متاثرہ علاقے کے سات تھانوں کی حدود میں کرفیو بھی نافذ کیا گیا جب کہ پوری ریاست میں دفعہ 144 لگا دی گئی۔ حکام نے نقصِ امن سے بچنے کے لیے 24 گھنٹوں کے لیے انٹرنیٹ کو بھی بند کر دیا۔

بھارتہ خبررساں ادارے ’اے این آئی‘ کے مطابق مرکزی وزارتِ داخلہ نے دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے والے ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو اس معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کر دی ہے۔ ایجنسی کو کہا گیا ہے کہ وہ پتا لگائے کہ کیا اس معاملے میں کوئی بین الاقوامی تنظیم بھی ملوث ہے؟

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جماعت اسلامی ہند اور جمعیت علما ہند سمیت متعدد مسلم مذہبی تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی جا رہی ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میں اس واقعے کے حوالے سے کہا کہ بی جے پی رہنما نپور شرما کا متنازع بیان مسلمانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ حکومت کی جانب سے نپور شرما کے خلاف کارروائی نہ کرنا مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ تاہم اس کے باوجود کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

Share This Article
Leave a Comment