بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جبری گمشدگیوں اورکراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر لاپتہ بلوچ طلبہ کی بازیابی کیلئے احتجاج کرنے والی پرامن خواتین مظاہرین اور طلبہ پر سندھ پولیس کے تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف بلوچستان یونیورسٹی سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
احتجاجی ریلی میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکاء نے تعلیمی اداروں سے بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔
اس موقع پر مقررین نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی جانب سے بلوچ طلبہ کو لاپتہ کرنا، ماورائے عدالت قتل اور سندھ اسمبلی کے باہر پرامن بلوچ خواتین مظاہرین اور طلبہ پر سندھ پولیس کا تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے اور مقتدر حلقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری ختم کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ کو تدریسی عمل جاری رکھنے سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کو جلد ممکن بنایا جائے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے لاپتہ طلبا دودا بلوچ اور غمشاد بلوچ کی بازیابی کیلئے کراچی پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ لگایاگیاتھا اور پھر ان کے لواحقین اور دیگر لاپتہ فیملیز اور طلبا تنظیمیں، سیاسی و سماجی کارکان جن میں خواتین و بچے بھی شامل تھے سندھ اسمبلی کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے اور گذشتہ دنوں سندھ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے ان پرشدید تشدد کیا، لاٹھی چارج کیاجن میں شیر خوار بچے سمیت متعددافراد زخمی ہوگئے۔
پولیس کی اس کارروائی میں 28خواتین و مرد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جنہیں بعدازاں رہا کردیا گیا تھا۔