بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ میڈیا کو جاری کردہ اپنے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے گذشتہ شب کوئٹہ میں ولی تنگی ڈیم کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے زیر استعمال ایک ریسٹ ہاؤس اور دو حفاظتی چیک پوسٹوں پر بیک وقت حملہ کرکے، دشمن کو نقصانات سے دوچار کیا۔
سرمچاروں نے تیس منٹ سے زائد جاری رہنے والے اس حملے میں خودکار ہتھیاروں اور راکٹوں سے دشمن فوج کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔
بلوچ سرمچار حملے کے بعد بحفاظت اپنے محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد حواس باختہ قابض فوج کے ہیلی کاپٹر مذکورہ مقام پر اپنے ہلاک و زخمی اہلکاروں کو اٹھانے کیلئے پہنچے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے قریب واقع شہری آبادیوں پر اندھادھند بمباری کرکے عام شہریوں کو نقصان پہنچایا۔
بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 10 جون بروز جمعہ کو ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں زردآلو کے مقام پر قابض فوج کے ایک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے دشمن کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
دریں اثناء اسی روز مستونگ میں میجر چوک کے قریب بی ایل اے کے سرمچاروں نے دشمن فوج کے ایک پوسٹ پر دستی بم سے حملہ کیا، جسکے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی نقصان حاصل ہوا۔ تاہم شکست خوردہ دشمن نے علاقے کی ناکہ بندی کرتے ہوئے اپنے نقصانات کو چھپانے کی کوشش کی۔
بلوچ لبریشن آرمی بلوچستان سے دشمن فوج کے مکمل انخلاء تک اپنے حملے شدت کے ساتھ جاری رکھے گی۔