بلوچستان یونیورسٹی میں بی ایس او اور پی ایس ایف کے درمیان ہونے والے تصادم کا خوش اصلوبی سے تصفیہ ہوگیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کے بلوچستان کے صدر و ایم پی اے اصغرخان اچکزئی اور پی ایس ایف کے بلوچستان کے صدر طاہر شاہ کاکڑ و دیگر رہنماروایتی میڑ لے کر فیصلے کیلئے پہنچے۔
تصفیہ بی این پی کے مرکزی ہیومین رائٹس سیکریٹری و ایم پی اے احمدنواز بلوچ کی سربراہی میں انکی رہائش گاہ پر ہوا جہاں بی این پی کے مرکزی فنانس سیکریٹری ایم پی اے اختر حسین لانگو، بی ایس او پجار کے چئیرمین زبیر بلوچ،بی ایس او کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات بالاچ قادر،بی ایس او کے سابقہ سیکریٹری جنر منیرجالب بلوچ،عوامی نیشنل پارٹی کے صدر و ایم پی اے اصغر خان اچکزء،پی ایس ایف کے صدر طاہرشاہ کاکڑ، بی ایس او پجار کے بلوچستان کے صدر بابل ملک سمیت بی ایس او اور پی ایس ایف کے زونل و مرکزی رہنماء بھی موجود تھے۔دونوں گروپوں کو آپس میں شیرو شکر کرکے دعا کی گئی۔
آخر میں ایم پی اے احمد نواز بلوچ،ایم پی اے اخترحسین لانگو،ایم پی اے اصغر خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ پشتون اقوام روایات کے امین ہیں جہاں رواداری،بھائی چارگی اور ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو فروغ ملتی ہے۔
یونیورسٹی میں ہونے والے واقعہ کو بلا کر دونوں اقوام کے طلباء اپنے ساتھیوں تک امن محبت اور یکجہتی کا پیغام لیکر جائیں۔ ہمارے بزرگوں نے بلوچ پشتون یکجہتی کو ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔راہشون سردار عطااللہ خان مینگل،میرغوث بخش بزنجو،باچا خان و دیگر بلوچ پشتون اکابرین نے ملکر حقوق کی جدوجہد کی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ کچھ قوتیں بلوچ پشتون اتحاد کو توڑنے کیلئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں لیکن کل کے واقعے کے بعد دونوں تنظیموں کے رہنماؤں کی جانب سے انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے ان قوتوں کو یہ پیغام دی گئی کہ ہم دونوں مظلوم اقوام اپنی اتحاد کے راستے میں خلل ڈالنے نہیں دینگے۔