پاکستان میں لاک ڈائون باعث بجلی، گیس و تیل کی طلب میں کمی آگئی

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

کورونا وائرس کے باعث ملک میں بجلی، قدرتی گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی طلب میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے جس سے رسد کی فراہمی میں سنگین آپریشنل اور مالی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔

ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ بجلی کی کھپت 30 فیصد کم ہوگئی ہے جس کے بعد حکام روانی برقرار رکھنے کے لیے ان علاقوں میں بھی بلا تعطل کے بجلی فراہم کرنے پر مجبور ہیں جہاں نقصان کی شرح کافی زیادہ ہے۔

مثال کے طور پر گزشتہ برس ہونے والی کھپت کی بنیاد پر لگایا گیا تخمینہ 12 ہزار 500 سے 13 ہزار میگا واٹ تھا لیکن پیر کے روز بجلی کی طلب 8 ہزار 500 میگا واٹ تک کم ہوگئی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جنوری اور فروری میں بجلی کی کھپت تخمینے کے تقریباً برابر رہی جو 11 ہزار 500 میگا واٹ سے 12 ہزارمیگا واٹ تھی۔

اس کے برعکس مارچ میں بجلی کا نطام چلانے والوں کی جانب سے 15 ہزار میگا واٹ کے تخمینے کے باوجود کھپت 10 ہزار سے 10 ہزار 500 میگا واٹ رہی۔

اس ضمن میں ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ اپریل کے لیے بجلی کی کھپت کا تخمینہ 18 ہزار گیگا واٹ ہے لیکن موجودہ صورتحال کے تناظر میں اس ہدف تک پہنچنا ممکن نظر نہیں ا?رہا۔

انہوں نے واضح کیا کہ نہ صرف کووِڈ 19 بلکہ ملک میں بارشوں کے حالیہ سلسلے کی وجہ سے بھی بجلی کی طلب متاثر ہوئی لیکن سب سے زیادہ کمی لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کی بندش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا نتیجہ گنجائش کےی چارجز زیادہ ہونے کی صورت میں نکلے گا جس سے بالآخر صارفین کے لیے قیمتیں متاثر ہوں گی اور کمپنی کو نقدی کے بہاو¿ میں مسائل کا سامنا ہوگا۔

اسی طرح گیس کی کھپت میں 40 سے 50 فیصد کمی ہوئی ہے اور صارفین کی جانب سے کم استعمال کی وجہ سے گیس نیٹورک کی لائنوں میں بھری ہوئی گیس تشویشناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اس کے علاوہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد میں بڑی کمی کردی گئی ہے کیوں کہ درآدمد کرنے والی کمپنیوں کو لیکویڈیٹی کے نقصانات اور خسارے کا سامنا تھا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہحالیہ دنوں میں گیس کی فروخت نصف ہوگئی ہےمثلاً سوئی نادردن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این گی پی ایل) میں ایل این جی کی فروخت لگائے گئے تخمینے 800 ملین کیوبک فیٹ روزانہ کے بجائے کم ہو کر 430 ایم ایم سی ایف ڈی ہوگئی۔

اسی طرح سی این جی کا شعبہ بھی 40 ایم ایم سی ایف ڈی کے تخمینے کے برعکس صرف 15 ایم ایم سی ایف ڈی استعمال کررہا ہے۔

یوں موجودہ صورتحال میں صرف کھاد کے پلانٹس کا فعال ہونا ہی گیس کمپنیوں کے لیے واحد امید ہے جبکہ توانائی کے شعبے سے بھی اپریل میں 450 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی کے آرڈرز دیے گئے تھے جو اب موجودہ صوتحال میں غیر یقینی دکھائی دے رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment