ایران میں جیسے جیسے کرونا کی وبا تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے وہیں برسر اقتدار ٹولے بالخصوص سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف عوام وخواص کا غم غصہ بھی مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹوںکے مطابق ایران کی 100 سرکردہ سیاسی اور سماجی شخصیات نے ایک کھلا خط شائع کیا ہے جس میں انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ‘کرونا’ کی وباءکے معاملے میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
مکتوب میں کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر اور ان کے حاشیہ برداروں نے کرونا کی وباءکے بارے میں ایک ماہ تک قوم سے حقائق چھپائے رکھے۔ حقائق سے چشم پوشی برتنے کے نتیجے میں پورے ملک میں کرونا نے المیہ برپا کردیا۔ آج کرونا کی وباءاس لیے بے لگام ہے کہ حکومت نے شروع دن سے اس پرقابون پانے کے بجائے اس پر پردہ ڈالنے کی پالیسی اپنائی۔
خامنہ ای پرتنقیدی مکتوب پر دستخط کرنے والی سرکردہ شخصیات میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سابق مشیر بہروز بیات، فزکس اور کیمسٹری کے سائنسدان مہران مصطفوی اورہا لینڈ سے نشریات پیش کرنے والے فارسی ریڈیو’زمانہ’ کے سابق ڈائریکٹر مہدی جامی شامل ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے کرونا کی وباءپر اس لیے پردہ ڈالے رکھا تاکہ لوگ گیارہ فروری کو خمینی انقلاب کی سالگرہ منا سکیں اور 21 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے سکیں۔ اس طرح حکومت نے کرونا سے نمٹنے کا سنہری موقع ہاتھ سے گنوا دیا۔
خیال رہے کہ حال ہی میں ایرانی حکومت کی طرف سے کرونا کے انسداد کے لیے قائم کردہ نیشنل سینٹر کے چیئرمین علی اکبر حق دوست نے انکشاف کیا تھا کہ ایران میں کرونا کی وباءجنوری کے تیسرے عشرے میں پھیلنا شروع ہوگئی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ حکومت نے کرونا کے پھیلاﺅ کے بارے میں اعلان میں بہت تاخیر کی ہے۔
قبل ازیں ایران کے سابق وزیر صحت حسن قاضی زادہ ہاشمی نے بھی کہا تھا کہ کئی سینیر عہدیداروں نے گذشتہ برس دسمبر میں ایران میں کرونا کی وباپھیلنے کے خطرات پر متنبہ کیا تھا مگر حکام نے اس پرکوئی توجہ نہیں دی۔
واضح رہے کہ شروع میں ایرانی حکومت کرونا کے معاملے کو ایک سیکیورٹی ایشو کے طور پر ڈیل کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت پر کرونا کے بارے میں آواز بلند کرنےوالے صحافیوں ، شہریوں اور حکومتی بد انتظامی پر تنقید کرنے والے عہدیداروں کو حراست میں لیا جاتا رہا ہے۔