بلوچ طلبا کی ہراسگی پر بننے والے کمیشن کو رانا ثنا نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

انسانی حقوق کارکن اور ایڈووکیٹ ایمان مزاری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ٹوئٹر“ پراپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ بلوچ طلبا کی ہراسگی پر بننے والے کمیشن کو موجودہ وفاقی وزیر ادخلہ رانا ثنااللہ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیاہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ عمل نئی حکومت کی طرف سے بلوچ طلبا کو دیا گیا ایک پیغام ہے۔

ایمان مزاری نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلبا کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ انہیں ہراساں کیا جاتا ہے جس پر ایک کمیشن بنایا گیا تھا جس کا مقصد تھا کہ بلوچ طلباء کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں وہ اس قسم کے واقعات کے تدارک کیلئے آواز اٹھا سکیں۔

لیکن وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے اسلام آباد کے اس اقدام کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔اوراب یہ واضح ہو گیا ہے کہ نئی حکومت ہو یا پرانی،بوٹ پالش میں سب ماہر ہیں اور جب بلوچستان کی بات آتی ہے، بلوچستان کی یوتھ کی بات آتی ہے توکسی میں ہمت نہیں کہ ان کی بات سن سکیں، ان کیلئے کئے گئے اقدامات پر عملدرآمد دور کی بات انہیں سننے کیلئے بھی کوئی تیار نہیں،وہ تو یہ کمیشن ہی برداشت نہیں کر سکتے، میں یہ پیغام دینا چاہتی ہوں نئی حکومت کو کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہم چپ کر کے بیٹھ جائینگے تو یہ آپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment