ڈیرہ بگٹی: ہیضہ سے متاثرہ پیرکوہ میں فلاحی اداروں کو کام سے روک دیاگیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کی انفارمیشن اینڈ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ میں پاکستان کی ریاستی اداروں اور او جی ڈی سی ایل انتظامیہ نے ہیضہ کی وبا سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کیلئے فلاحی اداروں اور سماجی شخصیات کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔

بلوچ سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی معروف وکیل ایمان زینب مزاری بلوچ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ میں اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے لکھا ایچ بی ایل نے ڈیرہ بگٹی کے رہائشی سماجی کارکن شیرباز کے بینک اکاؤنٹ کو معطل کردیا ہے جس کے ذریعے وہ پیرکوہ کے متاثرین کے لیے چندہ اکھٹا کر رہے تھے۔

ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ ایچ بی ایل اس اکاؤنٹ کو عارضی طور پر معطل کرکے پیرکوہ کے رہائشیوں کی تکلیف میں بھرپور حصہ ڈال رہا ہے جو صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اس اکاؤنٹ میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے عطیات بھیجے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلوچ ڈاکٹر فورم بھی پیرکوہ میں امدادی سرگرمیوں حصہ لینا چاہتی ہے اور وہاں اپنی ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کرچکی ہے لیکن ڈیرہ بگٹی کی انتظامیہ اور حکام ان کی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں اور انھیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور او جی ڈی سی ایل (آئل اینڈ گیس ڈیولمپنٹ کمپنی) کے حکام پیرکوہ میں ہیضہ کی وبا کے دوران سیاسی اسکورنگ میں لگے ہوئے ہیں۔ فوجی حکام نہیں چاہتے کہ بلوچستان کی حقیقی صورتحال کے بارے میں دنیا کو علم ہو۔ڈیرہ بگٹی سے پورے پاکستان کو جلانے کے لیے گیس ملتا ہے لیکن یہاں لوگ صاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ فوجی حکام کے علاوہ کوئی دوسرا اس انسانی المیے پر سیاست کرنا نہیں چاہتا لیکن فوج اس مسئلے کو ریاستی ساکھ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

ایک مقامی صحافی کے مطابق پیرکوہ کے لیے عطیات جمع کرنے والے شیرباز بگٹی کا اکاؤنٹ معطل کیا گیا ہے اور او جی ڈی سی ایل انتظامیہ نے پرائیوٹ ٹینکرز کو پانی کی فراہمی سے روک دیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام فوٹوسیشن کے لیے پیرکوہ کا دورہ کرنے والے ہیں اس لیے انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ انھیں ایک بہتر تصویر دکھائی جائے جبکہ یہاں صورتحال خراب ہے۔

شیرباز کی طرف سے جمع کردہ عطیات سے لوگوں کو کئی ٹینکرز پانی مہیا کیا جا رہا تھا۔اکاؤنٹ بند ہونے سے یہ سلسلہ بھی رک جائے گا جبکہ مریض سہولت کی عدم فراہمی کی وجہ سے موت کی منہ میں جا رہے ہیں۔اس کے باوجود محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ ادارے زور دے رہے ہیں کہ یہاں صورتحال ان کے کنٹرول میں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment