سری لنکا میں پر تشدد مظاہرین نے حکومتی حامیوں سے پرتشدد جھڑپوں کے بعد حکمران راجا پکشے خاندان اور متعدد اراکین اسمبلی کے گھر جلا ڈالے ہیں۔
واضح رہے کہ سری لنکا میں معاشی بحران پر شروع ہونے والے احتجاج کے باعث وزیر اعظم مہندا راجا پکشے مستعفی ہو چکے ہیں لیکن گزشتہ دن تشدد سے بھرپور رہا۔
اس کی ایک وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ حکومت مخلاف مظاہرین صرف وزیر اعظم کے استعفی سے مطمئن نہیں اور انھوں نے مہندا راجا پکشے کے سرکاری گھر کا محاصرہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ اس وقت مہندا راجا پکشے اپنے گھر میں ہی موجود تھے۔
سوموار سے اب تک سری لنکا میں جاری پر تشدد مظاہروں میں اب تک حکمران جماعت کے ایک رکنِ پارلیمان سمیت پانچ افراد ہلاک جب کہ 190 زخمی ہو چکے ہیں اور حکام کی جانب سے ملک بھر میں عائد کرفیو میں بدھ تک توسیع کر دی گئی ہے تاکہ حالات قابو میں لائے جا سکیں۔
مظاہرین کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم مہندا راجا پکشے کے بھائی اور سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پکشے بھی مستعفی ہوں۔
سری لنکا میں مہنگائی اور بجلی کی بندش کے خلاف گذشتہ مہینے سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
سری لنکا ایک بڑے معاشی بحران سے دوچار ہے جو کہ جزوی طور پر غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
بحرالہند میں سوا دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے اس ملک کو بڑے پیمانے پر بجلی کی لوڈشیڈنگ، ایندھن، ضروری اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے جس کے سبب عوام کا حکومت کے خلاف غصہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔
76 سالہ راجا پکشے کے ترجمان کے مطابق انھوں نے اپنا استعفیٰ صدر گوتابایا راجا پکشے کو بھجوا دیا ہے۔
ملک کے صدر گوتابایا راجا پکشے وزیراعظم مہندا راجا پکشے کے بھائی ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اُنھیں امید ہے کہ اس استعفے سے بحران حل ہونے میں مدد ملے گی تاہم صدر گوتابایا راجاپکشے کی موجودگی میں اُن کے مخالفین کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا امکان کم ہے۔ اکثر سری لنکن چاہتے ہیں کہ گوتابایا راجا پکشے بھی اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔