بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں پیش آنے والے اس تازہ واقعہ نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلائے جانے والے ملک میں جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے جرائم کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ہر اٹھارہ منٹ میں ایک خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پولیس افسر کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والے لڑکی کا تعلق بھارت میں نچلی ذات یا دلت برادری سے ہے۔ اس برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو طویل عرصے سے ملک کی طاقتور برادریوں کی طرف سے جبر واستحصال اور تشدد کا سامنا ہے۔ انہیں اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں پر پولیس سے نا ہونے کے برابر قانونی مدد یا تحفظ مہیا کیا جاتا ہے۔
متاثرہ لڑکی کے والد کے مطابق اسے گزشتہ ماہ چار ملزمان نے کئی دنوں تک اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ اسے اب طبی امداد کی غرض سے ایک ہسپتال میں داخل کرایا جا چکا ہے۔
قانونی امداد فراہم کرنے والی ایک این جی او کے مطابق دلت برادری کی لڑکی اپنے ساتھ کی گئی زیادتی کے واقعے کی شکایت درج کرانے کی کوشش کی تو متعلقہ تھانے کے انچارج نے اسے ہی جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس پولیس افسر کے ہمراہ چار دیگر افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں متاثرہ لڑکی کی ایک رشتہ دار خاتون بھی شامل ہے جو اس کے ساتھ تھانے کے اس کمرے میں موجود تھی جہاں اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انتیس ایسے پولیس اہلکاروں کو بھی ڈیوٹی سے معطل کر دیا گیا ہے جو وقوعہ کے وقت تھانے میں موجود تھے۔
اس واقعے کی خبرآنے کے بعد سوشل میڈیا پر غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔
بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کی سینیئر رہنما پریانکا گاندھی نے اپنی ایک ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ، ”اگر پولیس اسٹیشن بھی خواتین کے لئے محفوظ نہیں تو وہ کدھر جائیں؟” انہوں نے مزید لکھا کہ، ”کیا اتر پردیش کی ریاستی حکومت نے خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کیا ہے تاکہ پولیس تھانوں کو خواتین کے لئے محفوظ بنایاجا سکے؟”
بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے اجتماعی زیادتی کے ایک دلخراش واقعہ کے بعد ملک میں جنسی زیادتی کے قوانین اور سزاؤں میں بہتری لائی گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس طرح کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف سن دو ہزار بیس میں جنسی زیادتی کے بتیس ہزار سے زائد مقدمات رپورٹ کیے گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد وشمار اصل مسئلے کے ایک انتہائی سے کم ہیں۔