پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں ہونے والی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق دوران تحقیقات کسی غیر ملکی سازش کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ’کمیٹی کے اجلاس میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے موصول ہونے والے ٹیلی گرام کے بارے میں بحث کی گئی ہے۔ اس دوران اس وقت کے امریکہ کے لیے پاکستانی سفیر اسد مجیدنے ٹیلی گرام کے مندرجات اور پسِ منظر سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی۔‘
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے گذشتہ اجلاس کے مِنٹس بھی پیش کیے گئے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، فضائیہ اور بحریہ کے سربراہان سمیت اعلیٰ سول حکام شریک ہوئے جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب، وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیرمملکت برائے امورخارجہ حنا ربانی کھر شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ’ٹیلی گرام کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی نے کمیٹی کے گذشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔
’ملک کی سکیورٹی ایجنسیز نے کمیٹی کو ایک مرتبہ پھر بتایا کہ اس حوالے سے کسی غیر ملکی سازش کے ثبوت نہیں ملے۔‘
اعلامیے کے مطابق ’کمیٹی مراسلے کے مندرجات، اس پر کیے گئے تجزیے اور سکیورٹی ایجنسیز کے تجزیے کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی۔‘
اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ اداروں نے مراسلے کی تحقیقات کیں، دوران تحقیقات غیرملکی سازش کے ثبوت نہیں ملے۔ سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی کی گئی۔