پاکستان سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کردیئے۔
اس سلسلے میں کو ن صحیح ہے اورکون غلط، ابھی تک واضع نہیں ہوا ہے لیکن یہ بات صاف نظر آرہی ہے کہ اس کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ تھی اور عمران خان اور فروغ نسیم بطور پیادہ گھوڑے استعمال ہوئے کیونکہ یہ اسی اسٹیبلشمنٹ کے پیداوار ہیں۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو غلطی قرار دینے کے بیان پر سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کے بیان کا جواب دیتے ہوئے فروغ نسیم نے جیو ٹی وی کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ کو بتایا کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال انتہائی جذباتی، منتشر اور اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے پیارے وطن کی خاطر کشیدگی کو کم رکھنے کیلئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ کے سامنے ذاتی طور پرانٹرویو کیلئے نہ آؤں تاہم میں درج ذیل ریکارڈ کو درست کرنے پر مجبور ہوں۔
سابق وزیرقانون کا کہنا تھاکہ پہلی بات، ہماری عدلیہ عمران خان کے خلاف نہیں ہے، دوسری بات، میں نے جسٹس عیسیٰ کے خلاف کبھی کوئی ذاتی رنجش نہیں رکھی جو کچھ ہوا اس سب کے باوجود میں اب بھی ان کے خلاف کوئی ذاتی رنجش نہیں رکھتا۔
ان کا کہنا تھاکہ جسٹس عیسیٰ سے متعلق سمریز بہت حساس تھیں، ایسی سمریاں کبھی بھی آگے نہیں بڑھتیں اور ان پر کوئی کام نہیں کیا جاتا جب تک کہ وزیراعظم اور صدر کی طرف سے انہیں پیشگی کلیئر نہ کر دیا جائے۔
سابق وزیر کا کہنا تھاکہ چوتھی بات، اس معاملے میں وزیر اعظم، ایسٹ ریکوری یونٹ کے پاس دستیاب مواد پر غور کرتے ہوئے سمری یا ریفرنس بھیجنے پر اصرار کر رہے تھے، ایسٹ ریکوری یونٹ وزیر اعظم نے قائم کیا تھا اور براہ راست ان کے ماتحت کام کرتا تھا، میرے مزید تبصرے اور حقوق محفوظ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آخری بات، وزیر قانون کے طور پر میرے تین ادوار مشکل رہے، سب کو واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ میں عام طور پر تحمل اور صوابدید کا مظاہرہ کرتا ہوں، یہ یقیناً میری شخصیت کا حصہ ہے لیکن یہ سمجھنے میں کوئی غلطی نہ کریں کہ میرے پاس کسی بھی ابہام کو دور کرنے اور ریکارڈ کو درست کرنے کی پوری صلاحیت ہے، اگر ضرورت ہوئی تو پوری شدت اور درستگی کے ساتھ مربوط طریقے سے ایسا کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں اعتراف کیا ہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کیخلاف دائر کیس غلطی تھی، جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف کارروائی غیرضروری سمجھتا ہوں۔
انہوں نے کہا تھا کہ وزیرقانون نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے مختلف فلیٹس اوراثاثوں پربریف کیاتھا۔
سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے جسٹس فائز عیسیٰ کیس سے متعلق فواد چوہدری کے بیان پربھی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
فروغ نسیم کا کہنا تھاکہ فواد چوہدری کی باتیں بکواس ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم کو خود کوئی ذمہ داری نہیں لینی چاہیے؟
ان کا کہنا تھاکہ جسٹس فائز عیسیٰ سے متعلق ریفرنس کابینہ کے ذریعے نہیں گیا، فواد چوہدری کابینہ اجلاس کے وہ منٹس دکھائیں جس میں انہوں نے ریفرنس کی مخالفت کی کیونکہ کابینہ اجلاس کی کارروائی کے منٹس موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ وزیرقانون نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے مختلف فلیٹس اوراثاثوں پربریف کیاتھا۔
اس پر سابق وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھاکہ عمران خان نے خود جسٹس فائزعیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر اصرار کیا، انہوں نے اے آر یو کے مواد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے پر اصرار کیا تھا۔
اس پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا تھاکہ فروغ نسیم بطور وزیرقانون آپ کو ذمہ داری لینی چاہیے، حقیقت یہ ہے کہ تمام معاملہ آپ نے کھڑا کیا۔