نوکنڈی واقعہ: آزادی ہی انتقام ہے، بی این ایم پمفلٹ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں پاکستانی فوج کی جنگی جرائم کے خلاف ”نوکنڈی واقعہ: آزادی ہی انتقام ہے“کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا گیا ہے۔

پمفلٹ میں کہا گیا کہ چاغی میں جو اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے یہ وہی علاقہ ہے جس کے سونے کے ذخائر سے پاکستانی معیشت چل رہی ہے، یہ وہی چاغی ہے جس کے سینے میں پاکستان نے ایٹم بم داغ کر ایٹمی قوت بنا لیکن اسی سرزمین کے فرزند نان شبینہ کا محتاج ہیں،اسی امیر خطے کے غریب باسی دو وقت کی روٹی کے پیچھے پاکستانی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں، تپتے صحرا میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کا نوالہ بن جاتے ہیں، یہ کوئی خدائی فیصلہ نہیں کہ ہم اس طرح صحراؤں میں گدوں کے خوراک بن جائیں بلکہ یہ ہماری قومی غلامی کا نتیجہ ہے، غلامی بے رحم ہوتی ہے، غلامی انسان کی قیمت یہی رہ جاتی ہے جو بلوچ قوم کا ہے۔

بلوچستان میں پاکستانی دہشتگردی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ جبری گمشدگی، اور اجتماعی سزا کے طور پر نہتے لوگوں کا قتل عام، اجتماعی قبروں کی برآمدگی، مسخ شدہ لاشیں، گاؤں کے گاؤں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دل دہلادینے والے واقعات ہماری قومی زندگی کا حصہ بنائے جاچکے ہیں۔

اجتماعی سزا کا ہولناک واقعہ گزشتہ دنوں نوکنڈی میں پیش آیا۔ نوکنڈی میں پاکستانی فوج نے سرحدی کاروبار سے منسلک ڈرائیور کو قتل کردیا۔ اس کے ردعمل میں فوج کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اس پرامن احتجاج پر فورسز نے اندھا دھند فائرنگ کرکے متعدد افراد کو زخمی کردیا۔طاقت کا ہولناک استعمال یہاں نہیں رکا بلکہ پاکستانی فوج نے دوسو سے زائد گاڑیوں کے بیٹری نکال کر انجنوں میں ریت ڈال کر ناکارہ بنادیا۔ شدید گرمی کے موسم اور تپتے ریگستان، لق و دق صحرا میں سینکڑوں ڈرائیور کو پیادہ علاقہ سے نکلنے کا حکم دیا۔ چاغی کے گرم موسم میں ڈرائیور بھوک اور پیاس کی شدت کو برداشت نہ کرسکے اور تین ڈرائیور شہید ہوگئے۔چاغی کے صحرا میں ہونے والے مظالم نے کربلا کی یاد تازہ کردی جہاں یزید کے خلاف لڑتے ہوئے گرمی اور پیاس کی شدت نے حضرت امام حسین اور اس کے ساتھی کو موت کی نیند سلادیا۔

یہ پہلی بار نہیں کہ بلوچ کے ساتھ پاکستان نے ایسے ہولناک جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے بلکہ بلوچستان کی تاریخ ایسے اندوہناک واقعات سے بھری پڑی ہے۔نو آبادیاتی مظالم اور جبر کے تسلسل کے بلوچ اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ مکران سے لے کر حب چوکی، خضدار سے لے کر کوئٹہ اور کراچی تک جبر کا سلسلہ پھیلا دیا گیا ہے اور اس میں کمی آنے کے بجائے مذید شدت لائی جارہی ہے جو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان بلوچ سرزمین سے بلوچ قوم کو مٹانے کا حتمی فیصلہ کرچکا ہے۔

جس طرح بلوچ جہد کاروں اور بلوچ شہدا نے اپنی جدوجہد کے ذریعے پاکستانی ریاست کا سفاکانہ چہرہ اپنے قوم اور دنیا کے سامنے آشکار کردیا ہیاور انہیں باور کرایا ہے کہ بلوچ کے خلاف پاکستان جو بھی مظالم کا تازہ سلسلہ لاسکتا ہے لیکن بلوچ کے دل سے نفرت کے لاوے کو کبھی ختم نہیں کرسکے گا۔ آج ہر باشعور بلوچ واقف ہے کہ پاکستانی مظالم اب برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ پاکستانی حیوانیت اور جنگی جرائم کو روکنے کا واحد ذریعہ سیاسی مزاحمت ہے۔

غلامی کی زندگی نہ صرف انسانی کو بے بس اور لاچار بنادیتی ہے بلکہ غلامی کی زندگی انسان کے حس کو بھی چھین کر اس کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو ناکارہ بنادیتی ہے۔ یہ کام قابض قوت ایک منصوبہ بند طریقے سے کرتا ہے تاکہ مقبوضہ قوم کبھی اپنے قومی آزادی کے لیے بیدار نہ ہوکے۔ لیکن جب کسی قوم میں إحساسِ غلامی بیدار ہوتا ہے تو اسے تادیر غلام نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ آج بلوچ قوم نے قومی مزاحمت کے ذریعے واضح کردیا ہے کہ ہم پاکستانی غلامی کے خلاف حتمی جنگ کے میدان میں اتر چکے ہیں کیونکہ ایک غلام قوم کے پاس مزاحمت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا ہے۔

آئیں بلوچستان کی آزادی کے لئے یکجا ہو کر جدوجہد کریں، اپنے بھائیوں کی جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشوں اور نوکنڈی واقعے کے خلاف مزاحمت کا راستہ اپنائیں۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جینے کے لئے مرنا پڑتا ہے۔آئیں اپنے وطن کو روشنیوں کا گہوارہ بنائیں اور ہمارے وطن کی روشنیاں ہمارے اجتماعی مزاحمت میں پنہاں ہے اور ہمارے شہداکے لہو کا بدلہ آزادی ہے اور آزادی ہی بہترین انتقام ہے۔

Share This Article
Leave a Comment