بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراداور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو آج 4647 دن مکمل ہوگئے۔
کشمور سے سیاسی سماجی کارکن فرہان علی ڈومکی، جھل مگسی سے محمد طفیل شیرازی اور دیگر نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ عالمی سامراجی قوتیں اپنے مفادات کے خاطر بلوچ معصوم لوگوں کو باہم دست و گریباں کر کے ایک ناکام معاشی و سیاسی نظام کو بزور طاقت مسلط اور مخصوص کمپنیوں کے لوٹ مار کے لیے راہ ہموار کررہے ہیں اپنی سامراجی ریاستوں میں ابھرتی ہوئی عوامی پرامن جد وجہد سے بھوکلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے بلوچستان میں خون کی ھولی کا کھیل سلسلے کی کھڑی ہے تاکہ بلوچستان کے محکوم اقوام کو بے مقصد تنازعات اور جھگڑوں میں الجایا جائے لوگوں کو اپس میں لھڑنے کے لیے فل چھوٹ دی گئی ہے اس کے لیے بلوچستان کو قتل گری کا تجربہ گاہ بناتے ہوئے ہر گلی موت کو رقصاں کر دیا ہے قابض کے میڈیا وار اور پروپیگنڈا کا شکار بلوچستان کے بلوچ اس کھیل میں بری طرح ایندھن بن رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج ریاست اپنی نام نہاد لوگوں کے ساتھ مل کر بلوچ سایسی ورکروں غریب عوام پر امن جد وجہد کرنے والوں کو ٹارگٹ کر کہ شہید کررہی ہے یہ سب دنیا کے سامنے ہے جسکا سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اب پاکستان اپنی آخری سانسیں لے رہی دنیا میں تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پر امن جد وجہد بلوچ عوام میں سرایت کر جاتی ہے قوم میں جذبہ پر امن جد وجہد کو بیدار کر جاتے ہیں تو قابض ریاست اس کے تمام ادارے مقبوضہ قوم کے خلاف اپنی سخت سے سخت حکمتِ عملیاں اپناتے ہوئے مقبوضہ قوم کے غریب عوام طلباء استادوں سیاسی ورکروں کو بے دریغ جبر و ظلم کا نشانہ بناکر اپنی وجود کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں بالکل اسی طرح آج پاکستانی ریاست اپنی پوری دہشت کے ساتھ بلوچ قوم کے خلاف اپنی تمام تر قوت اداروں مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے پرامن جد وجہد کو کاؤنٹر کرنے کے پالیسی پر گامزن ہے اور بلوچوں کا اغوا گھروں میں گھس کر فرزندوں کو ٹارگٹ کر کے شہید کرنا قابض کی تاریخی ادوار کا حصہ ہیں۔