کوئٹہ: بلوچ جبری لاپتہ افرادلواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے اب تک 4644 دن مکمل ہوگئے۔

دالبندین سے سیاسی سماجی کارکنان محمد ایوب بلوچ اور درمحمد بلوچ نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے گومازی گزشتہ شب پاکستانی فورسز نے علاقے میں اپنی جارحیت کے دوران 7 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا لاپتہ کیے گئے افراد کی شناخت محبوب ولد شیران، شعیب ولد محمد شاہ، واجد ولد واحد، واجد ولد اکبر، فرید ولد یونس، مبارک ولد دلمراد کے ناموں سے ہوگئی ہے علاقائی زرائع کے مطابق اس قبل بھی مذکورہ افراد فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکار ہوئے تھے جو بعد میں رہا کیے گئے تھے ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ دو روز قبل بروز پیر کو فورسز نے 15 افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کیا تھا جن میں بچار کی شناخت نوہان ولد اختر، سیٹ عمر ندیم ولد عمر داؤد ولد سلیمان کے ناموں سے ہوئی ہے اور دیگر کی شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

یہ 22 لوگ اس دن لاپتہ ہوگئے تھے جس دن نئی حکومت حلف اٹھا رہا تھا یعنی ایک دن کی کارروائی جو نئے حکومت کو تحفے میں دیا گیا یہی لوگ جو اپوزیشن میں تھے لاپتہ افراد کے بارے میں بلند و بانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے تھے، حلف اٹھانے کے بعد نئے وزیراعظم نے اپنی تقریر میں لاپتہ افراد کا لیے زکر تک نہیں کیا، جس سے لاپتہ افراد کے لواحقین مایوس ہوئے ان کی امیدیں تھیں کہ نیا گورنمنٹ آئیگا تو سب سے پہلے لاپتہ افراد کا ذکر ہوگا کہ بلوچوں کا لاپتہ ہونا بند،اپریشن اور لاشیں گرانا بند لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانا لیکن لاپتہ افراد کی لواحقین پھر ایک دفہ اقوام متحدہ انسانی حقوق کے اداروں کی طرف متوجہ ہوگئے کہ ریاستی انسانی حقوق کے پامالیوں میں شدت باوجود عالمی میڈیا انسانی حقوق کے تنظیموں کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ سامراجی قوتوں کا غلبہ ان اداکاروں پر آج بھی مضبوطی کے ساتھ قائم ہے اور انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ عالمی اداروے ریاستی بربریت پر خاموشی کے بجائے لب کشائی کریں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment