پاکستان کے وفاقی اور تمام صوبائی حکومتوں نے اتفاق رائے سے پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
کورونا وائرس سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد دیگر حکومتی رہنماو¿ں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ ‘آج قومی سلامتی کمیٹی کا پانچواں اجلاس تھا، وائرس سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کے تحت چل رہے ہیں تاکہ کورونا وائرس کے کم سے کم منفی اثرات ہوں۔’
انہوں نے کہا کہ ‘سب سے پہلی چیز جس پر سب سے زیادہ بات بھی ہوتی ہے کہ وائرس کا پھیلاو¿ کیسے روکا جائے، اس کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے گئے اور پابندیاں عائد کی گئیں، اگر ہم وائرس کے پھیلاو¿ کو روک سکیں تو اس کے خلاف سب سے بہرین ہتھیار یہی ہے لیکن اس پھیلاو¿ کو روکنا صرف حکومت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا کام ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ وائرس سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ کیا جائے، اس کی تشخیص کیسے کی جائے، اس کے لیے لاکھوں لوگوں کی اسکریننگ کی گئی، ٹیسٹنگ کی جارہی ہے جس کے بعد اگر متاثرہ شخص سامنے آتا ہے تو اس کے علاج کے لیے کیا کرنا ہے اور علاج کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ہسپتالوں میں علیحدہ آئسولیشن وارڈز ہوں، آئی سی یوز میں وافر بستر ہوں، وینٹی لیٹرز ہوں اور ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو حفاظتی آلات و سامان کی فراہمی ہے۔’
اسد عمر نے بتایا کہ ‘اجلاس میں یہ بات بھی ہوئی کہ جو پابندیاں اور بندشیں بتدریج لگائی گئی ہیں اس کے منفی اثرات کو دیکھنا اور یقینی بنانا کہ اس سے کہیں ایسی کوئی مشکل کھڑی نہ ہوجائے جو ہماری کورونا کے خلاف جنگ کو متاثر کرے، اس کے لیے بھی ایک قائم کردی گئی ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ ‘اس وبا کا بہت بڑا منفی معاشی اثر ہے جو پوری دنیا میں نظر آرہا ہے، اسی لیے حکومت نے اتنے بڑے معاشی پیکج کا اعلان کیا، اب اس پیکج پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک اور ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور یہ کام تمام صوبوں کے ساتھ مل کر ہورہا ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘اجلاس کے فیصلوں کی بات کی جائے تو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ تمام صوبوں کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ملک کے تمام تعلیمی اداروں کی 5 اپریل تک کی چھٹیوں کو بڑھا کر 31 مئی تک کردیا گیا ہے، یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں جو خلل پیدا ہو رہا ہے اس سے متعلق جمعہ کو ایک اجلاس ہوگا جس میں نظرثانی کی جائے گی۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ‘آٹے کی قیمتیں بڑھنے کی خبر آنا شروع ہوگئی تھیں، ملک میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے، ملک میں 17 لاکھ ٹن آٹا موجود ہے نہ آگے کمی نظر آرہی ہے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اعظم ایک دو روز میں 2 اہم اعلانات کریں گے، ایک تو موجودہ حالات میں مدد کے لیے رضاکاروں کا پروگرام ہے جبکہ دوسرا حکومت کی مالی امداد سے متعلق ہے۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘اجلاس میں آخری فیصلہ مساجد میں اجتماعات سے متعلق کیا گیا اور اس پر کیسے عملدرآمد کرایا جائے گا۔’