امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے جمعرات کو کانگریس کی ایک سماعت میں بتایاہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین دارلحکومت کیؤ کو فتح کرنے سے دستبردار ہو گئے ہیں،۔
انہوں نے کہا کہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ روس کی افواج کو یوکرائنی فوج کے ہاتھوں زبردست جوابی شکست ہوئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، آسٹن نے کانگریس میں سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت میں کہا کہ پوٹن نے سوچا تھا کہ وہ بہت تیزی سے یوکرین کے ملک پر قبضہ کر سکتے ہیں، بہت تیزی سے اس دارالحکومت پر قبضہ کر سکتے ہیں۔ وہ غلط تھے۔
آسٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں پوٹن اب جنوبی اور مشرقی یوکرین پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
امریکی سینیٹ نے جمعرات کو متفقہ طور پر دو بلوں کی منظوری دی، جن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ فروری میں یوکرین پر جارحیت کے بعد روس پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے۔
ایک قانون سازی کے ذریعے امریکی صدر جوبائیڈن کے ‘انتظامی حکم نامے’ کو قانون کی شکل دینے کی سفارش کی گئی ہے، جس میں روس سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی درآمد پر بندش لاگو کی گئی ہے۔ لڑائی سے پہلے امریکہ روس سے توانائی کی ایک قلیل مقدار درآمد کرتا تھا۔
منظور کی گئی دوسری قانون سازی کے ذریعے تجارت کے حوالے سے بیلاروس اور روس کو دیا جانے والا ”انتہائی پسندیدہ ملک” کا درجہ واپس لیا گیا ہے، اور صدر بائیڈن کو اجازت ہوگی کہ اسٹیل اور ایلومونیئم جیسی روسی مصنوعات پر اضافی محصول لاگو کر سکیں۔
سینیٹ کی مالیات سے متعلق قائمہ کمیٹی کے سربراہ، سینیٹر رون وائڈن، جن کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے، بتایا کہ ”پوٹن نے روس کو مکمل طور پر ایک اچھوت ریاست بنا دیا ہے جس کے ساتھ رواجی تجارتی تعلقات رکھنا مشکل ہوگئے ہیں ”۔
ایسو سی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، کچھ شرائط کی صورت میں ہی اب روس کے ساتھ رواجی تجارتی تعلقات استوار ہو سکتے ہیں۔
سینیٹ کے منظور کردہ یہ دو بل اب امریکی ایوانِ نمائندگان کے سامنے لائے جائیں گے، جہاں ان کی منظوری یقینی ہے۔