کوئٹہ میں واپڈا ہائیڈرو ورکرز یونین کا دھرنا 7 روز سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) بلوچستان کے عہدیداروں کا مطالبات کے حق میں دھرنا ساتویں روز بھی چیف ایگزیکٹو آفس میں جاری رہا۔

اس موقع پر یونین رہنماؤں محمد رمضان اچکزئی، عبدالحئی، عبدالباقی لہڑی، محمد یار علیزئی اور سید آغا محمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز نے وفاقی حکومت کی جانب سے ہاؤس ایکوزیشن میں 44% اضافہ منظور کرکے اپنی ذمہ داریاں اد ا کی ہیں جو کہ ایک اچھا اقدام ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہاؤس ایکوزیشن میں 44% اضافے کے احکامات وفاقی حکومت نے اپنے تمام اداروں، کمپنیوں اور کارپوریشنز کو بروقت بھیجے تھے اور ان احکامات کو وفاقی وزارت پاور ڈویژ ن نے بھی واپڈا سمیت تمام پاور کمپنیوں کو بھیجا تھا جس پر واپڈا سمیت تمام پاور کمپنیوں نے ہاؤس ایکوزیشن میں 44% اضافے کی منظور دی لیکن کیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے چیئرمین جن کا کاسٹنگ ووٹ تھا۔

انہوں نے تمام بورڈ ممبران کی رائے کو نظر انداز کرکے وفاقی حکومت کے ان احکامات پر سات میٹنگز کیں اور لاکھوں روپے ان میٹنگ میں اعزازیہ وصول کرنے کے بعد بھی چیئرمین موصوف جو حیدرآباد کمپنی کے بورڈ کے ممبربھی ہیں وہاں منظوری دینے کے باوجود کیسکو کے ملازمین کے اس الاؤنس کو التوا میں رکھا اور بالآخر ممبران کی اکثریتی فیصلے کے بعد یونین کے مطالبے کو مد نظر رکھ کر یہ الاؤنس منظور ہوا اور چیئرمین بی او ڈی کیسکو کو مستعفی ہونا پڑا۔

یونین رہنماؤں نے سابقہ چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر زکیسکوسے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کیسکو بورڈ کی ممبر شپ سے بھی استعفیٰ دیں تاکہ کمپنی کے مسائل کے حل میں انہوں نے جو رکاوٹیں کھڑی کی تھیں ان کا ازالہ ہو سکے۔

Share This Article
Leave a Comment