بلوچستان کے ضلع خضدارسے پاکستانی سیکورٹی فورسز نے ایک نوجوان کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے جبکہ ضلع بارکھان سے جبری گمشدگی کے شکار دو نوجوان بازیاب ہوکر گھر پہنچ گئے۔
خضدار کے علاقے زہری بلبل سے دو روز قبل اس وقت ایک نوجوان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جب وہ فٹ بال میچ کھیلنے سے واپس آرہا تھا۔
نوجوان کی شناخت لعل محمد کے نام سے ہوئی ہے جو کھٹ باغبانہ زہری کا رہائشی ہے۔
ذرائع کے مطابق نوجوان کو سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد اغواء کرکے اپنے ہمراہ لے گئے جس کے بعد اس کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔
دوسری جانب ضلع بارکھان سے نوجوان اتحاد کے سربراہ شاہ زین بلوچ اور نسیم بلوچ جنہیں گزشتہ مہینے 26 فروری کو فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا آج بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ چکے ہیں۔
دونوں نوجوانوں کی بازیابی کی تصدیق انکے دوستوں نے کردی ہے۔
دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف بارکھان میں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے گیے جبکہ کوئٹہ میں سیاسی تنظیموں کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرائی گئی۔