بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ دنوں سے جاری ہے جسے 4624 دن مکمل ہوگئے۔
پی ٹی ایم کے مرکزی کمیٹی کے ممبران ملک عنایت اللی کاسی، نور باچا صوبائی صدر فتح کاکڑ اور دیگر نے کیمپ آکر بلوچ لاپتہ افراد لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کی۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ سرزمین پہ بدستور ریاستی جبر جاری ہے، جو مارچ کے مہینے میں تھما نہیں۔ہم نے پر امن جدوجہد کا دامن کبھی ہاتھ سے نکلنے نہیں دیا اور بلوچ جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے انکے لواحقین مسلسل سراپا احتجاج ہیں۔ذاکر مجید، زاہد بلوچ، ڈاکٹر دین محمد اور ہزاروں بلوچ اب تک ریاستی زندان میں بند ہیں۔حکمران پر امن جدوجہد اور جمہوری طریقہ کار سے لوگوں کو روک کر ڈرا دھمکا ان کے دل میں مزید نفرت کی آگ پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد دنیا کے سامنے ان غیر انسانی مظالم کو آشکار کرنا ہے جو عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔نام نہاد صوبائی حکومت امن و امان کو قائم کرنے کے بہانے بلوچستان میں آبادیوں پہ آپریشن اور بمباری میں برابر کے شریک ہیں اور جنگی مجرم ہیں۔